
ٹانک (گوہر ترین)ٹانک میں وزیرِاعلیٰ کا دورہ: میڈیا پر تالے، سوالات پر پابندی آر پی او کے حکم پر ٹانک کے صحافی دیوار سے لگا دیے گئے
بدامنی، خون اور لاشوں سے گزرنے والا ضلع ٹانک ایک بار پھر حکومتی بے حسی اور طاقت کے نشے کا شکار ہو گیا۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل خان آفریدی کے دورۂ ٹانک کے دوران تعزیت کے نام پر مکمل میڈیا بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا، جبکہ ٹانک کے مقامی صحافیوں کو جان بوجھ کر پروگرام سے باہر رکھا گیا
پولیس لائن کے باہر موجود اسپیشل برانچ اہلکاروں کے مطابق یہ اقدام کسی سیکیورٹی خدشے کے تحت نہیں بلکہ آر پی او سید اشفاق انور کے واضح اور براہِ راست احکامات پر کیا گیا۔ اسپیشل برانچ اہلکاروں نے باقاعدہ آر پی او کا پیغام دکھاتے ہوئے تصدیق کی کہ ٹانک کے صحافیوں کو کسی بھی صورت اندر داخل نہ ہونے دیا جائے
سوال یہ ہے کہ جب ٹانک میں پولیس اہلکار روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو رہے ہوں، جب بکتر بند گاڑیاں بھی محفوظ نہ ہوں، جب اہلکاروں کے جنازے حکومتی عدم دلچسپی کا نوحہ پڑھ رہے ہوں تو ایسے حالات میں میڈیا کو خاموش کرنا کس خوف کی علامت ہے
یہ دورہ نہ تعزیت تھا، نہ عوامی ہمدردی، بلکہ ایک کنٹرولڈ فوٹو سیشن تھا، جہاں صرف وہی کیمرے قابلِ قبول تھے جو سوال نہ کریں۔ ٹانک کے صحافیوں کو اس لیے دیوار سے لگایا گیا کیونکہ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام اور سیکیورٹی ناکامیوں کا پردہ چاک کرنا تھا اور یہی سچ طاقتور حلقوں کو ناگوار گزرا
میڈیا پر پابندی دراصل اعترافِ جرم ہے
اعتراف کہ امن و امان ناکام ہو چکا ہے
اعتراف کہ جواب دینے کی سکت باقی نہیں رہی
اور اعتراف کہ حکمرانوں کو عوام نہیں، صرف اپنی تصویر عزیز ہے
یہ عمل صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے اور واضح پیغام دیتا ہے کہ ٹانک میں سچ بولنے کی سزا میڈیا بلیک آؤٹ ہے
ٹانک کے عوام اور صحافی دوٹوک اعلان کرتے ہیں
ہم خوف سے نہیں، سچ سے جڑے ہیں
ہمیں فوٹو سیشن نہیں، امن چاہیے اور امن کے لیے جوابدہی ناگزیر ہے
![]()