پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری طیب عثمان اعوان نے بدھ کے روز اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈان نیوز کے سرکاری اشتہارات کی بندش محض ایک ادارے کے خلاف اقدام نہیں بلکہ آزاد، ذمہ دار اور جمہوری صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ اقدام آزادیٔ اظہار اور آئینی اقدار کے منافی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

پریس کلب کے عہدیداران نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشتہارات کی بندش کے سنگین نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث ڈان نیوز کو ملک بھر میں اپنا ڈی ایس این جی آپریشن بند کرنا پڑا ہے، جبکہ درجنوں ٹیکنیکل ملازمین کے فارغ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال ادارے سے وابستہ کارکنوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

ایم ریاض اور طیب عثمان اعوان نے کہا کہ صحافتی اداروں کو معاشی طور پر کمزور کرنا دراصل سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، آزادیٔ صحافت کا احترام کرے اور ڈان نیوز سمیت تمام میڈیا اداروں کے اشتہارات بلاامتیاز فوری طور پر بحال کرے۔

پشاور پریس کلب کی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر اس غیر جمہوری اور صحافت دشمن پالیسی کو ختم نہ کیا گیا تو صحافتی تنظیمیں ملک بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے