
پشاور (نیوز رپورٹر) — وفاقی حکومت کی جانب سے صحافت کی کیٹیگری میں مبینہ طور پر غیر متعلقہ شخص کو سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیے جانے کے خلاف سینئر صحافی نے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست سینئر صحافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز گروپ) کے صدر شمیم شاہد نے رحمان اللہ اور نیاز خان ایڈووکیٹس کے ذریعے دائر کی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ قومی و بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور آج بھی صحافت کے شعبے میں سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت ہر سال یومِ آزادی اور 23 مارچ کو مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو سول ایوارڈز کے لیے نامزد کرتی ہے، جس میں ایوارڈز کمیٹی کی سفارشات اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد صدرِ پاکستان یہ اعزازات دیتے ہیں۔
رٹ کے مطابق پشاور سے صحافت کی کیٹیگری میں ضیاء الحق سرحدی کو تمغہ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جو 23 مارچ 2026 کو دیا جانا ہے۔ تاہم درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ضیاء الحق سرحدی کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں، وہ نہ کسی صحافی تنظیم کے رکن ہیں اور نہ ہی شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ بلکہ وہ سرحد چیمبر آف کامرس اور دیگر کاروباری تنظیموں سے منسلک ہیں۔ ایسے شخص کو صحافت کے شعبے میں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنا ڈیکوریشن ایکٹ 1975 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی اور اقرباء پروری کا مظہر ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے منسوخ کیا جائے اور صحافت کی کیٹیگری میں شفاف اور منصفانہ طریقے سے ازسرِنو نامزدگیاں کی جائیں۔
رٹ پٹیشن کی سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
![]()