
ٹانک (گوہر ترین) پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج سے ریٹائرڈ صوبیدار شیرین خان بیٹنی نے الزام عائد کیا ہے کہ عنی خیل، سرمست خیل اور غنڈی شیخان اقوام نے ان کی وراثتی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ انہیں سرکاری طور پر دیے گئے سکول بھی انہی اقوام کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جائیداد کے تنازعے کے باعث اب تک تین افراد قتل ہو چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود متعلقہ اقوام کے مشران مسئلے کے پرامن حل کے لیے افہام و تفہیم پر آمادہ نہیں۔
ریٹائرڈ صوبیدار شیرین خان بیٹنی کا کہنا تھا کہ وہ ایک محبِ وطن اور امن پسند شہری ہیں اور پاک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی صورت مزید خونریزی نہیں چاہتے اور مسئلے کا حل پرامن طریقے سے چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جائیداد اور سکولوں پر قبضے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تنازعہ طول پکڑنے سے علاقے کے امن کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتو روایات کے مطابق جرگہ ہی اس مسئلے کا مؤثر اور پائیدار حل ہے، مگر تاحال مخالف اقوام کے مشران جرگہ کے لیے تیار نہیں ہو رہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ریٹائرڈ صوبیدار شیرین خان بیٹنی نے ڈپٹی کمشنر ٹانک، سیکٹر کمانڈر فرنٹیئر کور اور کور کمانڈر پشاور سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور پشتون روایات کے مطابق جرگہ منعقد کرا کے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہو گی۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ حکام ان کی اپیل پر توجہ دیں گے اور انہیں ان کی وراثتی جائیداد اور سرکاری سکول واپس دلوانے میں مدد فراہم کریں گے، تاکہ علاقے میں امن و امان بحال ہو سکے۔
![]()