چلڈرن ایمرجنسی ڈاکٹر اور تکبر بھرے بیڈ منیجر نے منہ میں چیونگم چباتے ہوئے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے کا مشورہ دے ڈالا
سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی سہیل آفریدی کا رات گئے ہسپتال پر چھاپہ،ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی موبائل استعمال کرنے پر پابندی عائد کرڈالی


پشاور(نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ڈاکٹرز نے فرعون کا روپ دھار لیا۔ چلڈرن ایمرجنسی میں نومولود بچے علاج سے محروم ،پرچیوں پر نو سپیس لکھ کر دور دراز علاقوں سے آئے نو مولود مریضوں کو رخصت کیا جانے لگا۔ سینئر ڈاکٹرز نے ایمرجنسی کو جونیئر ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ایل ار ایچ کی ایمرجنسیز کے سینئرڈاکٹرز مریضوں کو واٹس ایپ کے ذریعے علاج معالجہ تجویز کرنے لگے۔ت
فصیلات کے مطابق گزشتہ رات دو بجے شب قدر سے آنے والے آکسیجن کے طلبگار 35دنوں کے نومولود حریت کو ڈاکٹروں نے سرد رات میں بھی نیبولائزر فراہم کیا اور نہ ہی آکسیجن بلکہ چلڈرن ایمرجنسی میں موجود جونیئر ڈاکٹر اور تکبر بھرے بیڈ منیجر نے منہ میں چیونگم چباتے ہوئے مریض کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے کا مشورہ دے ڈالا۔بے ضمیر ڈاکٹروں اور عملے کے سامنے حریت کی والدہ کی آنکھوں سے جاری آنسو بھی ڈاکٹروں کے دل نرم نہ کر سکے ،مریض کے قریبی رشتہ دار نے ڈیڑھ گھنٹہ خجل خوار ہونے کے بعد احتجاج کیا اور اللہ تعالیٰ سے ہسپتال کے فرعونوں کا گلہ شکوہ کیاتو پھر ہسپتال کی سیکیورٹی اور عملے کا ضمیر جاگا اور انہوں نے بچے کو اپنی تحویل میں لے کر علاج شروع کیا۔ غریب مزدور کا 35دنوں کا بچہ حریت آکسیجن کی کمی کے باعث مرتے دم تک پہنچ گیا لیکن ہسپتال کے ناخدائوں نے اس وقت بچے کا علاج شروع کیا جب لوگوں نے احتجاج کا راستہ اپنایا۔
سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی رات گئے ہسپتال پہنچ گئے اور مریضوں سے ان کی مشکلات بارے آگاہی حاصل کی۔ وزیراعلیٰ کو سامنے پا کر عوام حسرت و یاس کی تصویر بن گئے، انہوں نے ہسپتال بارے شکایات کے انبار لگا دیئے ، عوام کا کہنا تھا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کا روزانہ کا یہ معمول بن چکا ہے، نرسز، ڈاکٹرز، منیجرز، حتیٰ کہ صفائی کرنے والے بھی صفائی کے دوران ہاتھ میں موبائل استعمال کرتے نظر آتے ہیں، پورے ہسپتال کا آوے کا آوا بگڑا چکا ، ہسپتال میں ایمرجنسی کے مریض اپنے علاج معالجے کی غرض سے دو دو دن سٹریچرز پر پڑے رہتے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے،صوبے میں 13 سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے باوجود ایمرجنسی وارڈز سکڑ کر رہ گئے۔ شدید سردی کی راتوں میں مریضوں کے ساتھ آنے والے مریض ہسپتال کے باہرفٹ پاتھوں پر سو رہے ہیں ۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لوگوں کی شکایات پر فورا ً موقع پر ہی احکام صادر کئے اور ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران موبائل استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ۔سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو ڈاکٹر، نرس یا عملہ دورانِ ڈیوٹی موبائل کا استعمال کریں، انکی موبائل سے ویڈیو بنا کر وزیر اعلی کمپلینٹ سیل کو بھجوائی جائے،اس کے بعد ہمارا ا یکشن شروع ہو گا۔
یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی، ڈاکٹروں کی من مانی اور فرعونیت کے باعث پشاور کے سرکاری ہسپتال کے حالات نہایت دگرگوں صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بعد صوبے کے دوسرے بڑے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی صورتحال بھی ایل آر ایچ سے قطعی مختلف نہیں، ذرائع بتاتے ہیں کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مرد حضرات کو زنانہ الٹرسائونڈ کرنے پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں خیبرنامہ پر شائع کی جائیں گی۔
![]()