
ٹانک (گوہر ترین) ٹانک سے رکنِ صوبائی اسمبلی عثمان خان بیٹنی نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف عمران خان کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ملک میں جمہوریت کا مذاق بھی اڑایا گیا ہے اس موقع پر ضلعی صدر فرحان حکیم سلیم جاوید ایڈوکیٹ شیخ احمد نواز سمیت پی ٹی آئی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں سیاسی انتقام کو فروغ دیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جن نمائندوں کو ووٹ دے کر منتخب کیا ان کے مینڈیٹ کو اس طرح کے فیصلوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سنگین سیاسی اور آئینی بحران کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ آئین و قانون سے انحراف اور اداروں پر دباؤ ہے۔ عثمان خان بیٹنی نے زور دیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی انہوں نے کہا کہ عوام کی حکمرانی ہی دراصل حقیقی جمہوریت کی ضمانت ہے اور اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتاایم پی اے عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف شروع دن سے قانون کی حکمرانی اور شفاف احتساب کی داعی رہی ہے، تاہم احتساب کے نام پر مخصوص سیاسی جماعت اور قیادت کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توشہ خانہ ٹو کیس سمیت تمام سیاسی مقدمات میں شفاف، غیرجانبدارانہ اور آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائےانہوں نے مزید کہا کہ ملک کے عوام باشعور ہو چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کون ان کے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے اور کون ان سے ان کے بنیادی حقوق چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔ عثمان خان بیٹنی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ہر فورم پر جمہوریت آئین اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کے سامنے سر نہیں جھکائے گی
![]()