
یہ مناظرہ محض ایک عام فکری نشست نہیں تھا بلکہ ایک سنجیدہ علمی امتحان بھی تھا، جس میں دلیل، منطق، تحمل اور فکری گہرائی سب کا امتحان لیا گیا۔ نوجوان عالمِ دین مفتی شمائلِ ندوی نے جس وقار، تیاری اور اعتماد کے ساتھ اس مناظرے میں شرکت کی، اس نے دیکھنے اور سننے والوں پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ یہ گفتگو اس بات کی واضح مثال بن گئی کہ علم اور دلیل کے سامنے محض نام اور شہرت دیر تک نہیں ٹھہر سکتے۔
خدا کے وجود جیسے حساس اور گہرے موضوع پر گفتگو کے لیے محض جذبات یا نعرے کافی نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے عقل، فلسفہ، انسانی فطرت اور وحی، سب پر گہری گرفت ضروری ہوتی ہے۔ مفتی شمائلِ ندوی نے یہ ثابت کیا کہ وہ اس ذمہ داری کے لیے پوری طرح تیار ہو کر آئے تھے۔ ان کی گفتگو میں ترتیب بھی تھی اور مقصدیت بھی، جس نے سامعین کو ابتدا سے آخر تک باندھے رکھا۔
جاوید اختر ایک معروف ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص فکری رجحان کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی باتوں کو سننے والے ایک خاص توقع کے ساتھ آئے تھے، مگر مناظرے کے دوران یہ بات واضح ہوتی گئی کہ ادبی مہارت اور فکری سوالات اٹھانا ایک بات ہے، جبکہ ان سوالات کا منطقی اور جامع جواب دینا ایک بالکل مختلف مرحلہ ہے۔
مفتی شمائلِ ندوی کی سب سے نمایاں خوبی ان کی حاضر جوابی اور ذہنی توازن تھا۔ وہ نہایت سکون اور تحمل کے ساتھ جاوید اختر کی بات سنتے، پھر اس کے بنیادی نکتے کو واضح کرتے اور اس کے بعد مدلل اور مؤثر جواب پیش کرتے۔ ان کے انداز میں نہ اشتعال تھا اور نہ ہی تحقیر، بلکہ سنجیدہ مکالمے کی خوبصورت مثال نظر آتی تھی۔
مناظرے کے دوران متعدد مواقع پر یہ بات محسوس کی گئی کہ جاوید اختر اصل موضوع سے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی وہ مذہبی تاریخ پر تنقید کرتے، کبھی مذہبی طبقے کے کردار کو موضوع بنا لیتے، اور کبھی سماجی مسائل کو خدا کے وجود کے ساتھ جوڑنے لگتے۔ مگر مفتی شمائلِ ندوی ہر بار گفتگو کو نہایت مہارت کے ساتھ اصل سوال، یعنی خدا کے وجود، کی طرف واپس لے آتے۔
ملحدانہ فکر میں عام طور پر پیش کیے جانے والے اعتراضات، جیسے شر کا مسئلہ، کائنات کا خودبخود وجود، یا مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ، ان سب کا جواب مفتی شمائلِ ندوی نے نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں دیا۔ ان کے دلائل میں فلسفہ بھی تھا اور فطرتِ انسانی کی گواہی بھی، جس نے ان کے موقف کو مزید مضبوط بنا دیا۔
ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی تھا کہ مفتی شمائلِ ندوی نے گفتگو کو صرف علمی حلقے تک محدود نہیں رکھا بلکہ عام فہم مثالوں کے ذریعے بات کو واضح کیا۔ انہوں نے روزمرہ زندگی، کائنات کے نظم، اور انسانی شعور کی مثالیں دے کر خدا کے وجود کو عقلِ عام کے قریب کر دیا۔
سامعین کا ردِعمل اس مناظرے کا ایک اہم پہلو تھا۔ ابتدا میں اگرچہ کئی لوگ جاوید اختر کی حمایت میں نظر آئے، مگر جیسے جیسے مناظرہ آگے بڑھتا گیا، ویسے ویسے فضا بدلتی گئی۔ مفتی شمائلِ ندوی کے مدلل جوابات پر بار بار تالیاں بجنا اس بات کا ثبوت تھا کہ دلیل نے اثر دکھایا ہے۔
یہ بات بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ مفتی شمائلِ ندوی نے کبھی مخالف کی ذات کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے خیالات سے اختلاف کیا، دلائل کو رد کیا، مگر احترام اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہ انداز خود اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کی عملی تصویر تھا۔
تقریباً ایک گھنٹہ چھپن منٹ پر مشتمل یہ مکمل مناظرہ ذہنی طور پر طویل ضرور تھا، مگر گفتگو کی سنجیدگی اور مضبوط دلائل نے اسے بوجھل نہیں ہونے دیا۔ ناظرین کی بڑی تعداد نے پورا مناظرہ توجہ کے ساتھ دیکھا اور سنا، جو خود اس نشست کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو ایسے ہی علماء کی ضرورت ہے جو جدید فکری چیلنجز کو سمجھتے ہوں اور ان کا جواب اسی فکری سطح پر دے سکیں۔ مفتی شمائلِ ندوی اس معیار پر پورا اترتے دکھائی دیے۔
یہ نشست صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے تھی جو سچ کی تلاش میں ہے۔ ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ تقویتِ ایمان کا باعث بنی اور سوال اٹھانے والوں کے لیے سوچ کے نئے دروازے کھول گئی۔ مفتی شمائلِ ندوی نے اسی قرآنی اور نبوی فکر کی عملی تصویر پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ عقل، شعور اور دل کی گواہی کا مجموعہ ہے۔
نوجوان علماء کے لیے یہ مناظرہ ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح علم کے ساتھ اخلاق، صبر اور حکمت کو لازم پکڑا جاتا ہے۔ بلند آواز یا سخت زبان کبھی بھی مضبوط دلیل کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہ مناظرہ محض ایک وقتی فکری مکالمہ نہیں تھا بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے ایک مضبوط فکری حوالہ بن چکا ہے۔ اس مناظرے نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اگر حق کو علم، خلوص اور حکمت کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ خود اپنی قوت سے دلوں اور اذہان پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ مناظرہ دراصل امتِ مسلمہ کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام بھی ہے کہ فکری میدان میں نہ مایوسی کی گنجائش ہے اور نہ ہی پسپائی کی۔ اگر نوجوان علماء بھرپور تیاری اور اعتماد کے ساتھ میدان میں آئیں تو وہ اسلام کے فکری حسن کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔
مفتی شمائلِ ندوی دل کی گہرائیوں سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نہ صرف امتِ مسلمہ کی مؤثر ترجمانی کی بلکہ ہر اس شخص کا سر فخر سے بلند کیا جو خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہے۔ ان کی گفتگو میں علم، وقار اور خلوص نمایاں تھا۔
یہ امید پوری قوت کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ مفتی شمائلِ ندوی آئندہ بھی اسی بصیرت، تیاری اور وقار کے ساتھ فکری محاذ پر حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے اور امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔
سوربھ دیویدی کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے، جنہوں نے نہایت ایمانداری، توازن اور غیر جانب داری کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مجموعی طور پر یہ نشست علم، دلیل، برداشت اور مہذب اختلاف کی ایک شاندار مثال بن کر سامنے آئی، جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔
![]()