محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا میں 2018 میں بھرتی ہونے والے صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 43 ملازمین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ریگولر اور بحال کیا جائے۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک طرف اعلیٰ عدلیہ بحالی کے واضح احکامات جاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے ذریعے انہی فیصلوں کو بے اثر بنایا جا رہا ہے۔
یہ مطالبات محکمہ ٹرانسپورٹ سے تعلق رکھنے والے ملازمین، جن میں عطااللہ خان وزیر، حاشر خان، شفقت حسین، محمد اسد، گل زمان، فضلداد خان اور شاد محمد خان شامل ہیں، نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2022 میں ایک ایکٹ کے ذریعے انہیں ریگولر کیا تھا، تاہم 2025 میں اسی ایکٹ کو ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 43 ملازمین کو مستقل ڈیوٹی کے باوجود ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ باقاعدہ طور پر محکمہ ٹرانسپورٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، مگر وقتاً فوقتاً حکومتی پالیسیوں اور قانون سازی میں تبدیلیوں نے ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔ اسمبلی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایسے فیصلے کیے گئے جن کے باعث 43 خاندان بے روزگاری، غربت اور فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطااللہ خان وزیر نے کہا کہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ تین ماہ کے اندر اندر بے روزگار کیے گئے 43 ملازمین کو بحال کیا جائے، تو پھر ایک سال گزر جانے کے باوجود ان احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صوبائی حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہی نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم ڈیوٹیاں انجام دے رہے تھے اور اچانک ہمارے سروں پر بے روزگاری کی تلوار لٹکا دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ 43 خاندانوں کو ایک جھٹکے میں بے روزگار کر دیا گیا۔ متاثرہ ملازمین نے حکومت سے اپیل کی کہ انہیں چور یا مجرم بننے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بحال کیا جائے۔
ملازمین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریبوں کے ہمدرد سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان کی فریاد کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان کی بحالی یقینی بنائیں۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے 10 یوم کے اندر اندر 43 بے روزگار ملازمین کو بحال نہ کیا تو وہ اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دیں گے، جس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے بھی احتجاج کیا جائے گا، اور اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے