
پشاور: کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت نجی اسکولوں کے بچوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے والی ٹرانسپورٹ کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ پشاور، ٹریفک پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA)، محکمہ ایکسائز اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکول کے بچوں کو لانے لے جانے والی تمام سوزوکی گاڑیوں اور بسوں کی فٹنس لازمی ہوگی۔ اگر کسی گاڑی کے ڈالے یا چھت پر بچوں کو بٹھایا گیا تو متعلقہ اسکول اور ڈرائیور کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں گاڑی کی ضبطگی اور ذمہ داروں کو جیل بھیجنا شامل ہوگا۔
کمشنر پشاور ڈویژن نے واضح کیا کہ اسکول بچوں کے لیے استعمال ہونے والی سوزوکی گاڑیاں کھلی نہیں ہوں گی بلکہ ان کے پچھلے حصے میں باقاعدہ دروازہ نصب ہونا لازمی ہوگا، جو بچوں کے بیٹھنے کے بعد بند کیا جائے گا۔ بچوں کو گاڑیوں کی چھتوں پر بٹھانے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اجلاس میں محکمہ موٹر وہیکل ایگزامینیشن کو ہدایت کی گئی کہ اسکول ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال ہونے والی تمام گاڑیوں کا مکمل معائنہ کیا جائے اور فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی بھی گاڑی بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے کی مجاز نہیں ہوگی۔
مزید برآں، ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں اسکول بچوں کی سوزوکی گاڑیوں میں سی این جی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ پیٹرول کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے سوزوکی ایسوسی ایشن کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے اعلان کیا کہ ان تمام فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے 16 جنوری سے بھرپور آپریشن شروع کیا جائے گا، جس کی وہ خود نگرانی کریں گے۔ ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ مینجمنٹ کے ساتھ کمشنر پشاور ڈویژن فیلڈ میں موجود رہیں گے تاکہ اسکول کے بچوں کی محفوظ آمد و رفت کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
![]()