افغانستان اس وقت ایسے نازک اور تشویشناک حالات سے گزر رہا ہے جن پر خاموشی اختیار کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ موجودہ حالات نے نہ صرف ریاستی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی، عزت، سلامتی اور مستقبل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ملک میں بدامنی، معاشی بدحالی، انسانی حقوق کی پامالی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کی زبوں حالی، اور عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ صورتحال کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ افغانستان کے عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں، مگر ان کے مسائل کے حل کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔افغانستان اس وقت شدید تعلیمی بحران کا شکار ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش، نصاب میں غیر یقینی صورتحال، اساتذہ کی کمی، اور لاکھوں بچوں اور نوجوانوںبالخصوص لڑکیوںکو تعلیم سے محروم رکھنا نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قومی ترقی کے تمام راستے مسدود کر رہا ہے۔اس حوالے سے سپریم کونسل فار کوآرڈینیشن آف آرمڈ فورسز آف افغانستان کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق الحاج حفیظ اللہ سلطانی کی قیادت میں شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کنڑ، ننگر ہار اور نورستان سمیت ملک بھر سے ہزاروں افراد نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں سپریم کونسل نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ تعلیم جیسے بنیادی حق کو محدود یا معطل کر کے افغانستان کو جہالت، پسماندگی اور معاشی انحصار کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم تک رسائی نہ ہو، وہاں امن، استحکام اور خودمختاری کا خواب کبھی شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔تعلیمی بحران کے نتیجے میں نوجوان نسل مایوسی، بے روزگاری اور انتہاپسندی کے خطرات سے دوچار ہو رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس بارے میں افغانستان کی مسلح افواج کے مابین اتحاد اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق کینیڈا سے جنرل ہمایون، امریکہ سے جنرل زازی، ڈنمارک سے جنرل نور آقا، آسٹریلیا سے جنرل عظیم ہمدرد، لندن سے جنرل زریامل اور صوبہ ننگرہار کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر محترم ہاشمی نے ایک مشترکہ اور باضابطہ بیان میں الحاج حفیظ اللہ سلطانی (سربراہ کوآرڈینیشن کونسل آف افغان فورسز)کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اعلی حکام اور عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے وقار کی حفاظت کرنا،قومی مفادات کا تحفظ،مسلح افواج کا اتحاد،ملک میں پائیدار امن کی کوششوں کو تقویت دینا اور سابقہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کے حقوق کا دفاع کرنا،دنیا بھر میں بکھرے اور ملک کے اندر موجود تمام عسکری و سیکیورٹی اہلکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے فیصلے کئے گئے ہیںتاکہ ان کی قوت کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔
اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ نازک حالات میں الحاج حفیظ اللہ سلطانی کی قیادت میں یہ کونسل نہ صرف افواج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گی، بلکہ وطن عزیز کی خدمت اور وقار کی بحالی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔
شوریٰ اجلاس میں سپریم کونسل نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ قومی مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، باہمی ہم آہنگی اور مشاورت کا فقدان ہے اور ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل صرف طاقت، جبر یا یکطرفہ فیصلوں سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔لہٰذا سپریم کونسل فار کوآرڈینیشن آف آرمڈ فورسز آف افغانستان تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کرتی ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی اور گروہی مفادات پر ترجیح دی جائے۔عوام کے بنیادی حقوق، بالخصوص جان، مال، تعلیم اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔تمام افغان قوتوں کے درمیان بامعنی مکالمہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ایسے اقدامات کیے جائیں جو ملک میں پائیدار امن، استحکام اور خودمختاری کا سبب بنیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ اعلامیہ کسی انتشار یا تصادم کے لیے نہیں بلکہ افغانستان کو مزید تباہی سے بچانے، اور ایک باوقار، پرامن اور مستحکم مستقبل کی جانب لے جانے کے جذبے کے تحت جاری کیا جا رہا ہے۔سپریم کونسل اپنے قومی اور اخلاقی فرض کے تحت افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور ہر اس کوشش کی حمایت کرے گی جو ملک کو بحران سے نکالنے اور قومی وحدت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو۔


![]()