
تحریر: مدثر زیب
صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کسی بھی حکومت کی جانب سے کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی انسانی حق ہے۔ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا اُن صوبوں میں شامل ہے جہاں آگاہی کی کمی، حکومتی غفلت، قدرتی آفات اور تیزی سے بڑھتی آبادی کے باعث صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (WASH) سے متعلق مسائل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ کمزور حکومتی ڈھانچے اور ناقص عملدرآمد نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ صوبائی اور وفاقی سطح پر متعدد پالیسیاں مرتب کی گئیں، مگر کسی بھی دور میں ان کے حقیقی اور دیرپا نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کی ایک بڑی آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ سرکاری اسکولوں کی اکثریت میں نہ صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی مناسب بیت الخلاء کی سہولت، جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید ابتر ہے۔ سابقہ فاٹا، دور دراز اضلاع اور پہاڑی علاقوں میں ہزاروں افراد آج بھی ندی نالوں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس، اسہال اور ٹائیفائیڈ جیسی مہلک بیماریاں عام ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹس کے مطابق ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد گندے پانی اور ناقص صفائی کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہوتی ہے، جن میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
عوامی آگاہی کی شدید کمی بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے، جسے ہر دور کی حکومتوں نے نظرانداز کیا۔ صحت، صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق بنیادی شعور کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ اگر اس مجموعی حالت کو خیبر پختونخوا کا ایک نظرانداز شدہ انسانی بحران قرار دیا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا۔
صفائی کے ناقص انتظامات نے اس مسئلے کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ صوبے کے کئی دور دراز اضلاع میں سیوریج کا باقاعدہ نظام ہی موجود نہیں۔ کھلے نالے، کھیتوں میں رفع حاجت اور جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہیں بلکہ خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بھی ہیں۔ دوسری جانب شہری علاقوں میں موجود سیوریج نظام بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ یہ سب کچھ ایسے صوبے میں ہو رہا ہے جہاں ہر سال ترقیاتی بجٹ کے نام پر اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ واضح طور پر یہ صورتحال کسی قدرتی مسئلے کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی اور ناقص حکمرانی کی عکاس ہے۔
حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں، جیسے ہاتھ دھونا، صاف پانی کا استعمال اور گھریلو صفائی کے بارے میں آگاہی کی کمی نے اس بحران کو مزید شدت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خصوصاً اسکولوں اور دیہی کمیونٹیز میں صحت سے متعلق تعلیم نہایت ناکافی ہے۔ مزید برآں، سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات نے صوبے کے واشنگ نظام کو بارہا تباہ کیا ہے۔ ہر آفت کے بعد عارضی کیمپ تو قائم کیے جاتے ہیں، مگر پائیدار واشنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہمیشہ نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً چند سال بعد وہی بحران، وہی دعوے اور وہی ناکامیاں دوبارہ سامنے آ جاتی ہیں۔
سیلاب کے بعد صاف پانی کے ذرائع آلودہ ہو جاتے ہیں، جس سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے مسائل کو محض سہولیات کی کمی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ انسانی وقار، صحت اور زندگی کا بنیادی سوال ہیں۔ اگر اس سنگین بحران پر بروقت اور سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ مسائل محض ترقیاتی چیلنج نہیں رہے بلکہ ایک خاموش انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
![]()