
خیبر (امان علی شینواری) خیبر ضلع کے علاقے ذخہ خیل، بازار آلاچہ کے رہائشی رحمت اللہ ولد حاجی سرور خان نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ رحمت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ سال 2024 میں تحصیل باڑہ سے اپنے چار ساتھیوں نور حکیم، ارمان علی، کامران اور علی آباد (جو کہ حاضر سروس پولیس اہلکار ہے) کے ہمراہ کارخانو جا رہے تھے، جن کے ساتھ دو دنبے بھی موجود تھے۔
رحمت اللہ کے مطابق جمرود بازار میں سابق ایس ایچ او تھانہ جمرود ذوالفقار اور اس وقت کے ایس ایچ او عدنان نے سول کپڑوں میں ملبوس دیگر اہلکاروں کے ہمراہ انہیں روک کر اپنی وائٹ فیلڈر گاڑی میں گرفتار کیا اور تھانہ جمرود منتقل کر دیا۔ وہاں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، بعد ازاں انہیں کارخانوں کے علاقے میں واقع ایک بیسمنٹ میں لے جایا گیا جہاں انہیں سات روز تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ کسی منشیات فروش کو جانتے ہیں تو اسے پولیس کے حوالے کریں، تاہم وہ بے گناہ تھے اور بلیک میلنگ ماننے سے انکار کیا۔ بعد ازاں انہیں تختہ بیگ منتقل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ان کی گاڑی میں زبردستی منشیات رکھ کر ویڈیو بھی بنائی گئی۔
رحمت اللہ کا کہنا تھا کہ چونکہ گاڑی ان کی ملکیت تھی اس لیے باقی چار ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم پولیس گردی کے خلاف ان کی جانب سے بھیجا گیا وائس میسج جو اس وقت آئی جی پولیس اور اعلیٰ حکام تک پہنچا، اس کے بعد انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارا اور بالآخر عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا۔
پریس کانفرنس میں رحمت اللہ نے مزید الزام لگایا کہ پولیس نے موقع پر ان سے دس لاکھ روپے نقد وصول کیے، گھر کا راشن اور دو دنبے بھی اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال واپس نہیں کیے گئے۔ انہوں نے آئی جی پولیس اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دوسری جانب اس معاملے پر جب سابق ایس ایچ او تھانہ جمرود عدنان سے موقف لیا گیا تو انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملزم کے ساتھ کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں تھی اور موقع پر ان کے پاس منشیات موجود تھیں۔ عدنان کے مطابق ملزم کسی کے ساتھ رابطے میں تھا، جس کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی گئی اور اسی وجہ سے اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا اور جیل جانا پڑا۔
سابق ایس ایچ او عدنان نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس گروہ کی جانب سے انہیں چھوڑنے کے بدلے پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر عائد کیے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
![]()