
پشاور(احتشام طورو) ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا نے قاضی حسین احمد ہسپتال نوشہرہ میں جعلی اسناد کے ذریعے بھرتیوں کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی موصول ہونے والی شکایات اور تفصیلی انکوائری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مبینہ طور پر جعلی تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد کی بنیاد پر تقرریوں کی شکایات سامنے آئیں، جن پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ انکوائری کے دوران شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت ہوا کہ بعض افراد نے جعلی دستاویزات کے ذریعے سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ اس پیش رفت کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
ایف آئی آر میں میڈیکل فیکلٹی خیبرپختونخوا کے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد الطاف، اسسٹنٹ کنٹرولر خیال محمد، اور قاضی حسین احمد ہسپتال نوشہرہ کے ڈائیلاسز ٹیکنیشنز آصف اللہ، محمد اویس، صبا گل، انعامیہ اور ساحرہ بی بی کو نامزد کیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نامزد ملزمان میں سے محمد اویس کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ اس کیس میں متعلقہ ریکارڈ، تعلیمی اسناد اور بھرتیوں کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں اور جعلسازی کے شواہد سامنے آئے۔ ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق “اداروں میں شفافیت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس نوعیت کے معاملات میں بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔”
پس منظر کے طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں سرکاری اداروں میں شفاف بھرتیوں کو یقینی بنانے کے لیے حالیہ برسوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود بعض واقعات میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جعلی اسناد کے ذریعے بھرتیاں نہ صرف میرٹ کی پامالی ہیں بلکہ عوامی خدمات کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر صحت کے شعبے میں اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
مقامی شہریوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اگر مزید افراد ملوث ہوں تو انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صحت کے اداروں میں اہل اور مستند عملے کی تعیناتی براہ راست مریضوں کی زندگیوں سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی بدعنوانی ناقابل قبول ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے گزشتہ برسوں میں مختلف محکموں میں درجنوں کیسز میں کارروائیاں کی ہیں، جن کا مقصد سرکاری اداروں میں احتساب اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کارروائی صوبے میں احتسابی عمل کو تقویت دینے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریوں اور تحقیقات میں پیش رفت متوقع ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ میرٹ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
![]()