
تحریر: فیاض شاداب
آج یکم مئی ہے۔ تقویم کی رو سے "یومِ مزدور”۔ پورے ملک میں سرکاری سطح پر تعطیل ہے، تعلیمی ادارے بند ہیں اور دفاتر میں تالے لٹک رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے گھر والوں کے ساتھ یہ دن سکون سے گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ میں بھی "ترقی پسند مصنفین” کی دعوت پر یومِ مزدور کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے لوکل گاڑی میں سوار شہر کی جانب رواں تھا۔ میرے برابر میں بیٹھے دو مسافروں کی گفتگو نے مجھے ایک ایسی سوچ میں مبتلا کر دیا جس نے جشنِ مئی کی تمام تر رعنائیوں کو بے معنی کر دیا۔
ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا، جس کے چہرے کی جھریاں، دھوپ سے جھلسی رنگت اور کھردرے ہاتھ اس کی کڑی مشقت کی گواہی دے رہے تھے: "بھائی، آج تو چھٹی ہے، آپ اس وقت کدھر جا رہے ہو؟”
سامنے والے نے حیرت سے پوچھا: "کیسی چھٹی؟”
پہلے نے جواب دیا: "آج یومِ مزدور ہے، سارے دفتر بند ہیں، سرکاری چھٹی ہے۔”
اس محنت کش نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے جو جواب دیا، وہ ہمارے نظام کے منہ پر طمانچہ تھا: "صاحب! میں نے کونسے دفتر جانا ہے؟ میں تو لاری اڈے پر کام کرتا ہوں، وہاں نہ چھٹی ہوتی ہے نہ کوئی یوم۔”
میں خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ شکاگو کے محنت کشوں کی یاد میں منائی جانے والی یہ چھٹی آخر کس کے لیے ہے؟ کیا یہ چھٹی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو سارا سال پنکھوں اور اے سی کے نیچے بیٹھ کر فائلیں ادھر ادھر کرتے ہیں یا ان کے لیے جن کے نام پر یہ دن منسوب ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے دن بھی میرے وطن کا اصل مزدور فیکٹریوں کی تپتی مشینوں، لاری اڈوں کے شور اور کھیتوں کی چلچلاتی دھوپ میں پسینہ بہا رہا ہے۔ اسے تو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے نام پر دنیا بھر میں دانشور بڑی بڑی تقریریں کر رہے ہوں گے اور زریں خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہوگا۔
آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شکاگو کے شہداء نے جانوں کا نذرانہ اس لیے دیا تھا کہ صرف سرکاری اداروں میں بیٹھے لوگ آرام کریں؟ یا اس لیے کہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے کو اس کا حق ملے؟ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو مراعات یافتہ ہے اور دوسری طرف وہ غریب عوام ہیں جو کبھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیلتے ہیں تو کبھی گیس کی عدم دستیابی پر پریشان رہتے ہیں۔ مہنگائی کا جن اس قدر بے قابو ہو چکا ہے کہ دہاڑی دار طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک جہاد بن گیا ہے۔
میں پوچھتا ہوں کہ اس ملک کا محنت کش کب سکھ کا سانس لے گا؟ کیا اسے ریلیف صرف اخباری بیان بازیوں اور ایک دن کی علامتی چھٹی سے ملے گا؟ یا اسے اس کا حق تب ملے گا جب اس کی اجرت اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ملے گی اور اسے وہ بنیادی سہولیات میسر ہوں گی جو ایک انسان کا حق ہیں۔
جب تک لاری اڈے پر کام کرنے والے اس مزدور کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ آج اس کا دن ہے، تب تک یہ چھٹیاں اور یہ تقریبات محض ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یکم مئی "یومِ مزدور” ہے یا "یومِ استحصال”؟ کیونکہ جس معاشرے میں مزدور آج بھی سکھ کے سانس کو ترس رہا ہو، وہاں جشن منانا خود اپنی ذات سے مذاق کے مترادف ہے۔
![]()