اسلام آباد؛۱۲ دسمبر ۲۰۲۵: اکادمی ادبیاتِ پاکستان اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان کے باہمی اشتراک سے ۱۲ دسمبر کو ایک نہایت پر وقار اور علمی وادبی رنگ سے مزین ایک روزہ سیمینار مع تصویری نمائش بعنوان "ترکی ادب میں آیا صوفیہ” منعقد ہوا۔

سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق (ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی) نے کی، جب کہ محفل کے مہمانِ خصوصی جناب مہمت طوئران (ایجوکیشن قونصلر، ترک سفارت خانہ) تھے۔ مقررین میں ڈاکٹر فاروق عادل، جناب عبید اللہ کیہر اور جناب ایرین میاس اوعلو، ایجوکیشن ڈائریکٹر یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ شامل تھے، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شیر علی نے خوش اسلوبی سے ادا کیے۔
افتتاحی کلمات میں یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے کنٹری ڈائریکٹر اور تقریب کے منتطم پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ترکیہ اور پاکستان دونوں ممالک کی دوستی اور برادرانہ تعلقات کو سراہا اور اس کے استحکام کی دعا کی۔ بعد ازاں انھوں نے آیا صوفیہ کی پندرہ سو سالہ تاریخ کو تفصیل سے پیش کیا اور سامعین کو آگاہ کیا کہ آیا صوفیہ نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا کی خوب صورت ترین مساجد میں سے ایک ہے اور اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اسلامی تہذیب کی نزاکت اور فراخ دلی اس قدر اعلیٰ پایہ ہے کہ اپنے دشمنوں کی خوب صورتیوں کو منہدم نہیں کرتی بلکہ ان کی حفاظت کرکے ان کو آباد کرتی ہے۔
جناب ایرین میاس اوعلو، ڈائریکٹر ایجوکیشن یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ نے ’’ترکی ادب میں آیا صوفیہ‘‘ کے علامتی اور استعاراتی پہلوؤں پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ آیا صوفیہ ترکی ادب میں صرف ایک عمارت نہیں بلکہ روحانی تجربات، تہذیبی ربط اور وجودی اظہار کا استعارہ ہے۔ایک ایسی علامت جونظریہ، تاریخ، روحانیت اور فنونِ لطیفہ کو یکجا کرتی ہے۔
جناب عبید اللہ کیہر نے ترکیہ اور آیا صوفیہ کے اپنے سفر اور وہاں گزاری گئی ساعتوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے اپنے سفر نامے “یارِ من ترکی” سے اقتباسات سنائے اور آیا صوفیہ کو تہذیب و ثقافت کی ایک ایسی علامت قرار دیا جو ترکی ادب میں بارہا اور بھرپور انداز میں موضوعِ سخن بنی۔
ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ آیا صوفیہ اب محض ایک تاریخی عمارت نہیں رہی، بلکہ انسانی دلوں کا "تاج محل” بن چکی ہے۔ انھوں نے اپنی آنے والی کتاب “شاخِ زریں کے دائیں بائیں” کا حوالہ دیا اور اس میں سے اقتباسات سنائے جس سے علم ہوا کہ اس میں آیا صوفیہ کے حوالے سے ان کے مشاہدات اور روحانی کیفیات کو نہایت لطیف پیرایے میں قلم بند کیا گیا ہے اور خصوصاً حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی شبیہوں کے حوالے سے ان کی تحقیق انتہائی دلچسپ ہے۔
مہمانِ خصوصی جناب مہمت طوئران نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ صدیوں سے شعرا، ادبا، مورخین اور معماروں کی نظر کا مرکز رہا ہے۔ شعرا نے اسے روحانیت، جمالِ فن اور تہذیبی ورثے کے رنگوں میں ڈھالا ہے، اور مختلف ملکوں کے لکھنے والوں نے اسے اپنے اپنے اسلوب میں امر کیا ہے۔ انھوں نے آیا صوفیہ سے متعلق شعری ادب کے کچھ حصے بھی پیش کیے اور حاضرین سے داد سمیٹی۔
صاحبِ صدارت پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان اور یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ نے دونوں ممالک کے ادبی، تہذیبی اور روحانی رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک شان دار علمی نشست کا اہتمام کیاہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ انھوں نے تاریخ کے اہم موڑوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کا تحفظ اور اسے مسجدِ کبیر کا درجہ دینا فاتح سلطان محمد کی دوراندیشی کی دلیل ہے۔انھوں نے موجودہ سیاسی اور سماجی منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلم دنیا کے علمی زوال اور ٹیکنالوجی سے دوری کا بھی تذکرہ کیا اور زور دیا کہ پاکستان کو ترکیہ سے ہر شعبے میں جدید مہارت اور علم سیکھنے کی ضرورت ہے۔ خطاب کے آخر میں انھوں نے خوب صورت اشعار سنائے جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔
صدر نشین اکادمی ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے اظہارِ سپاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نشست“ترکی ادب میں آیا صوفیہ”صرف ایک سیمینار نہیں، بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ادب، فن اور تہذیب کے جاری مکالمے کا تسلسل ہے۔انھوں نے کہا کہ آیا صوفیہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ وہ زندہ استعارہ ہے جس میں تاریخ، تہذیب اور روحانیت کی روشنی یکجا ہوتی ہے۔ ہر دور کے ادیب نے اس سے اپنے اپنے معنوں کے چراغ روشن کیے ہیں۔ انھوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان اور یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ ایسے موضوعات کو سامنے لا رہے ہیں جن میں فنِ تعمیر، تاریخ، جمالیات اور انسانی روح کا سفر ایک نقطے پر جمع ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آیا صوفیہ ہمیشہ سے ایک علامتِ سفر رہی ہے اور روحانی اور تہذیبی تجربات کا آئینہ ہے۔ایسے مقامات دلوں میں زندہ رہتے ہیں، محض کتابوں یا عمارتوں میں نہیں۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام علمی وژن اور جمالیاتی ذوق کو جِلا دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو عالمی ادبی و تہذیبی دھارے سے جڑنے کے لیے ترکیہ جیسے ممالک سے سیکھنا چاہیے، جو علمی اور فنی لحاظ سے خود مختار ہو چکا ہے۔
اپنے شریک منتظم پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کی خدمات کاخصوصی ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ترکیہ میں پاکستان اور پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ہیں ۔ انھوں نے چار دہائیوں تک استنبول میں اردو کے چراغ روشن رکھے، اور ترکی ادب و ثقافت کو پاکستان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا نام دونوں ممالک کی ادبی تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
آخر میں انھوں نے تمام مقررین اور تمام شرکا کا پھر سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سیمینار کے بعد آیا صوفیہ کی تصاویر کی نمائش دیکھنا ضروری ہے کیوں کہ یہ صرف تصویریں نہیں بلکہ صدیوں کی روشنی کی تمثیلیں ہیں۔
سیمینار کے اختتام پر اکادمی اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے صدرِ محفل، مہمانِ خصوصی اور مقررین کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئیں۔بعد ازاں شرکا نے اکادمی ادبیات پاکستان کے ایوانِ اعزاز میں آیا صوفیہ کی بیس (۲۰ ) نادر و دلکش تصاویر کی نمائش دیکھی، جنھیں معروف ترک فنکار مہمت اوزچائے نے اپنے کیمرے اور فن کی آنکھ سے تخلیق کیا ہے۔ اس نمائش کا افتتاح مہمان خصوصی جناب مہمت طوئران نے دیگر مہمانوں کی معیت میں کیا۔ دورانِ نمائش جناب ایرین میاس اوعلو نے ان تصاویر کی وضاحت کی جو محض تصاویر نہیں بلکہ تاریخ، فنِ تعمیر، امید اور روحانیت کے امتزاج کی تصویری تعبیر ہیں۔
اس سیمینار و تصویری نمائش میں راول پنڈی اسلام آباد کے اہلِ قلم کے ساتھ آرٹس، تاریخ اور ادب سے تعلق رکھنے والے ملکی و غیر ملکی طلبہ بھی شریک ہوئے، جنھوں نے ہر تصویر کو گہری دلچسپی اور فنی تجسس کے ساتھ دیکھا۔ ان کی شرکت نے تقریب کو ایک بین الثقافتی اور بین الجامعاتی اہمیت عطا کی۔
مجموعی طور پر حاضرین نے نہ صرف مقالات اور خطابات سے فکری روشنی حاصل کی بلکہ تصاویر کے ذریعے آیا صوفیہ کی روحانی اور تاریخی عظمت کو ایک نئے زاویے سے محسوس بھی کیا۔تقریب اس امید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ادب، فن اور تہذیب کا یہ تابندہ سلسلہ مستقبل میں مزید وسعت اور گہرائی اختیار کرے گااور دونوں ممالک کے ادبی و علمی ادارے اسی جذبۂ اخوت کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔
![]()