یہ واقعہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کے ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے طویل، تکنیکی اور بے حد پیچیدہ عمل سے گزارا گیا۔ 11 دسمبر 2025 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان نے نہ صرف اس کیس کو حتمی قانونی شکل دی بلکہ پورے ملک میں اس موضوع پر نئی بحث، تبصرے اور تشریحات کا آغاز بھی کر دیا، اور یہ بحث مستقبل قریب میں بھی جاری رہنے کا امکان رکھتی ہے۔

بارہ اگست 2024 کو جب پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی تو یہ بدستور واضح کیا گیا کہ معاملہ محض فرد واحد کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط، آئینی بالادستی اور ریاستی سلامتی کے اصولوں کا امتحان ہے۔ اس نقطے سے فوج کے اندر اور باہر ایک سنجیدہ دلچسپی پیدا ہوئی کہ آخر اتنے بڑے عہدے والے شخص کے خلاف احتسابی عمل کیسے آگے بڑھے گا اور اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

پندرہ ماہ تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران عدالت نے ہر الزام، ہر شہادت، ہر بیان، اور ہر قسم کے دستاویزی ثبوت کو انتہائی باریک بینی اور غیر معمولی احتیاط کے ساتھ پرکھا۔ اس عمل میں شامل ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی شفافیت اور تفصیل اس لیے ضروری تھی کہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک معیار بن سکے، اور یہ ثابت ہو کہ قانون کی نظر میں کوئی فرد یا منصب اتنا بالا نہیں کہ اس کی جوابدہی نہ ہو۔

پراسیکیوشن کے سامنے پیش کیے گئے چار بڑے الزامات میں سے پہلا اور سب سے زیادہ حساس الزام سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا تھا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے لیے غیر سیاسی رہنا ایک بنیادی، ناگزیر اور سختی سے نافذ کردہ اصول ہے، لہٰذا عدالت کے نزدیک یہ خلاف ورزی ادارہ جاتی ڈھانچے اور ملکی استحکام دونوں کے لیے نقصان دہ مانی گئی۔ اس الزام کے ثابت ہونے نے یہ تاثر بھی تقویت دی کہ سیاسی عمل میں مداخلت کسی بھی سطح پر قابل قبول نہیں۔

دوسرا الزام آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی سے متعلق تھا، جو ایک نہایت سنجیدہ نوعیت کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی رازوں کا تحفظ ملک کی بقا کے لیے اسی طرح ضروری ہے جیسے ایک گھر کے لیے مضبوط دیواریں۔ عدالت کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی نہ صرف مخصوص دستاویزات کے لیے خطرہ تھی بلکہ اس کا اثر مستقبل میں ریاست کے فیصلہ ساز عمل پر بھی پڑ سکتا تھا۔ اسی لیے اس الزام کو انتہائی سختی سے دیکھا گیا۔

تیسرا الزام اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط اور غیر مجاز استعمال کا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب کوئی شخص اپنے عہدے کی طاقت کو ذاتی فائدے یا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس سے ادارہ کی ساکھ، اعتماد اور مقاصد سب مجروح ہوتے ہیں۔ یہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ مستقبل میں ایسے رویوں کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد کیوں ضروری ہے۔

چوتھا الزام افراد کو غلط طور پر نقصان پہنچانے کے متعلق تھا، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی حساس اخلاقی اور قانونی سوالات اٹھاتا ہے۔ عدالت نے مختلف شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسے اقدامات فوری فائدے کے لیے کیے گئے مگر ان کے نتائج نے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ ادارہ جاتی اصولوں کو بھی کمزور کیا۔ اس پہلو نے کیس کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا۔

ان تمام الزامات کا مجموعی تجزیہ کرنے کے بعد فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے یہ قرار دیا کہ ملزم تمام نکات میں قصوروار ٹھہرتا ہے، جس کے بعد اسے 14 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بے حد اہم تھا، کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ طاقت کا کوئی مقام، سابقہ خدمات یا سابقہ عہدہ قانون کے دائرے سے بالاتر نہیں ہوتا۔ اس فیصلے نے ملکی احتسابی نظام میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس پورے عمل کے دوران نہ تو کسی قسم کی جلد بازی کی گئی اور نہ ہی کسی دباؤ کو اثرانداز ہونے دیا گیا۔ ملزم کو اپنی پسند کے وکلاء رکھنے، شواہد کو چیلنج کرنے، دفاعی گواہ پیش کرنے، اور ہر قانونی حق استعمال کرنے کی مکمل اجازت دی گئی۔ یہ شفافیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کارروائی کسی انتقامی جذبے یا سیاسی اثر کے تحت نہیں بلکہ خالص قانونی دائرے میں کی گئی۔

یہ بھی واضح کیا گیا کہ سزا یافتہ شخص کو قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق موجود ہے۔ اپیل کا عمل اس کیس کی ایک اور اہم سطح ہوگا جس میں مزید قانونی پہلو زیرِ غور آئیں گے۔ چونکہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت اپیل کا فورم واضح ہے، اس لیے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ فیصلہ مستقبل میں عدالتی نظرثانی کے ذریعے مزید جانچا جائے گا۔

اس کیس کا ایک الگ اور نہایت اہم پہلو وہ مبینہ معاملات ہیں جن میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ روابط، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں، اور ریاستی اداروں کے توازن کو متاثر کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ چونکہ یہ معاملات نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہیں، اس لیے انہیں الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ان پہلوؤں پر بھی قانونی یا ادارہ جاتی آگے بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

یہ پورا معاملہ پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑاخلاصہ بھی پیش کرتا ہے کہ کوئی ادارہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر احتساب کا مضبوط، شفاف اور قابلِ عمل نظام موجود نہ ہو۔ اس فیصلے نے ثابت کیا کہ فوج کا احتسابی نظام نہ صرف فعال ہے بلکہ اپنی حدود کے اندر انتہائی موثر بھی ہے۔

ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے کے بعد مختلف رائے سامنے آئی، مگر اصل نکتہ یہ ہے کہ کارروائی فوج کے اپنے آئینی اور قانونی نظام کے اندر ہوئی ہے۔ چاہے کوئی اسے انصاف کی جیت کہے یا سیاست کی شکست، حقیقت یہی ہے کہ فیصلے کی بنیاد قانونی شہادتیں ہیں، نہ کہ کوئی ذاتی تعصب یا سیاسی مفاد۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل کے لیے کئی نئے دروازے کھولے گا، کیونکہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اختیار رکھنے والا کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ اس سے آئندہ وہ تمام افراد جو اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا سوچتے ہیں، وہ بھی محتاط رہیں گے۔

پاکستان کے سیاسی ماحول میں بھی اس فیصلے نے نئے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ریاستی اداروں کے درمیان توازن صرف قانون کے ذریعے ہی ممکن ہے، یا اس کے لیے سیاسی بلوغت بھی ضروری ہے۔ البتہ اس وقت رائے عامہ زیادہ اس بات کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

فوج کے اندر یہ پیغام بھی گیا ہے کہ نظم و ضبط، غیر سیاسی رہنا، اور اختیارات کا شفاف استعمال وہ بنیادی ستون ہیں جن سے کسی ادارے کا وقار قائم رہتا ہے۔ جب اس طرح کے معاملات پر سخت کارروائی ہوتی ہے تو ادارے کے اندر موجود ہر فرد کو واضح ہو جاتا ہے کہ غلط اقدام کا نتیجہ ناگزیر ہے۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ ادارہ جاتی صفائی ہی ادارے کی مستقبل کی طاقت ہے۔ دنیا کے مضبوط ترین ادارے بھی اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب وہ اندرونی غلطیوں کو تسلیم کر کے انہیں درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس فیصلے نے پاکستان آرمی کو اس اصول کے قریب تر کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس فیصلے کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے اقدامات دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی ادارے قانون سے بالاتر نہیں، بلکہ اس کے ماتحت ہیں۔ اس طرح کے فیصلے پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں کہ ملک کا نظام انصاف طاقتور ترین طبقے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم مہمیز بھی ہے کہ ریاست کی ترقی اُس وقت ممکن ہوتی ہے جب ادارے طاقتور ہوں مگر قانون اس سے بھی زیادہ طاقتور ہو۔ قانون کی بالادستی ہی وہ بنیادی بنیاد ہے جس سے قومیں مستحکم ہوتی ہیں، اور ریاستیں داخلی انتشار سے باہر نکلتی ہیں۔

یہ فیصلہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نشانِ راہ بھی ہے کہ جب ادارے قانون کی رٹ کو مضبوط کریں گے، تو ریاست کی جڑیں مزید گہری اور مستحکم ہوں گی۔ احتساب کا یہ سفر مشکل ضرور ہے، مگر اسی راستے سے قومیں ترقی یافتہ، خوددار اور منظم بنتی ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے