
کراچی کے مصروف اور گنجان آباد تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں کل رات ساڑھے 9 بجے اچانک لگنے والی خوفناک آگ نے پورے شہر کو غم، خوف اور شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ آگ کے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے بلند ہوتے گئے اور آسمان پر دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آگ لگنے کے فوراً بعد پلازہ میں موجود دکانداروں اور خریداروں میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے، مگر تنگ راستوں اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے اور عمارت کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔
اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گل پلازہ کے اندر 80 سے 90 افراد تاحال پھنسے ہوئے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ خبر سن کر پورا شہر صدمے کی کیفیت میں ہے اور ہر آنکھ اشکبار نظر آتی ہے۔
ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ادارے رات گئے سے موقع پر موجود ہیں اور بھرپور کوششیں جاری ہیں، تاہم حالات غیر معمولی حد تک خطرناک ہو چکے ہیں جس کے باعث ریسکیو آپریشن شدید مشکلات کا شکار ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس وقت ٹیمیں پلازہ کے اندر داخل نہیں ہو سکتیں، کیونکہ عمارت کے دو حصے پہلے ہی گر چکے ہیں جبکہ باقی ڈھانچہ بھی کسی بھی وقت منہدم ہونے کے خدشے سے دوچار ہے۔ مسلسل آگ، شدید دھواں اور کمزور ساخت کے باعث اندر جانا ریسکیو اہلکاروں کی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔
ان خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں مکمل احتیاط کے ساتھ جاری ہیں اور بیرونی سطح پر موجود وسائل کے ذریعے ممکنہ حد تک لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسی دوران ایک نہایت افسوسناک خبر سامنے آئی کہ ریسکیو اہلکار فرقان علی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ فرقان علی نے انسانیت کی خدمت کے دوران اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔فرقان علی کی شہادت نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک بہادر اور فرض شناس ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
اس سانحے میں اب تک 22 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جنہیں فوری طور پر شہر کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
واقعے کے بعد کراچی کے گورنمنٹ سول اسپتال کے برنز وارڈ میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ تمام دستیاب ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو طلب کر لیا گیا جبکہ غیر ضروری چھٹیاں منسوخ کر کے عملے کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
برنز وارڈ میں زخمیوں کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم محدود وسائل اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث طبی عملے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، اس کے باوجود وہ فرض شناسی کے جذبے کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسپتالوں کے باہر زخمیوں کے لواحقین بے چینی، اضطراب اور شدید ذہنی کرب کا شکار نظر آتے ہیں۔ کوئی اپنے پیارے کی ایک جھلک کے لیے بے قرار ہے تو کوئی مسلسل دعاؤں میں مصروف ہے، ہر چہرہ ایک ان کہی داستان سنا رہا ہے۔
صدر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے رہنما تنویر قاسم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریسکیو ٹیم کے ساتھ اندر موجود لوگوں کو نکالنے کا مناسب انتظام ہوتا تو صورتحال مختلف اور زیادہ کنٹرول شدہ ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریسکیو ٹیم کے وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے انسانی نقصانات میں اضافہ ہوا۔
تنویر قاسم کے مطابق، اس سانحے کے وقت پلازہ میں تقریباً 7 سے 8 ہزار افراد موجود تھے، کیونکہ ویک اینڈ کے دنوں میں اس علاقے میں خریداری اور دکانداری کے لیے رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بڑی تعداد نے ہنگامی صورتحال کو اور پیچیدہ بنا دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پلازہ میں موجود فائر ایگزٹ اور دیگر حفاظتی انتظامات ٹھیک تھے، اور یہی وجہ تھی کہ ابتدائی مراحل میں متعدد افراد آسانی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، لیکن آگ کی شدت اور دھوئیں کی وجہ سے بعد میں کئی افراد پھنس گئے۔
اس سانحے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گل پلازہ میں اصل میں صرف 500 دکانوں کی اجازت تھی، مگر ضابطوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے بڑھا کر تقریباً 1200 دکانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ غیر قانونی توسیع نہ صرف عمارت کی مضبوطی کو متاثر کرتی رہی بلکہ ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بنی۔
گل پلازہ تین منزلوں پر مشتمل تھا، تاہم ہر منزل پر ضرورت سے کہیں زیادہ دکانیں، تنگ گزرگاہیں اور ناقص سیڑھیاں تعمیر کی گئیں، جس نے عمارت کو ایک خطرناک ڈھانچے میں بدل دیا۔
ایسی ناقص منصوبہ بندی کے باعث کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں محفوظ انخلا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، اور یہی صورتحال اس المناک حادثے میں واضح طور پر سامنے آئی۔
اطلاعات کے مطابق عمارت میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے۔ فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر فائٹنگ سسٹم یا تو ناکارہ تھے یا سرے سے لگائے ہی نہیں گئے تھے۔
یہ تمام حقائق متعلقہ اداروں کی غفلت، لاپرواہی اور نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہری عمارتوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور حفاظتی معیارات پر عملدرآمد یقینی بناتے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کے المناک واقعات کا بار بار پیش آنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
متاثرہ خاندان اس وقت شدید ذہنی اذیت، صدمے اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ کوئی اسپتالوں کے چکر لگا رہا ہے تو کوئی جائے وقوعہ پر اپنے پیاروں کی خبر کے انتظار میں کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس سانحے پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے، جہاں لوگ نہ صرف افسوس کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور شفاف کارروائی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو تجارتی مفادات، بدعنوانی اور انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا، اور کب ان سانحات کا حقیقی احتساب ہوگا۔
یہ واقعہ اجتماعی طور پر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر بروقت نگرانی، سخت قوانین اور غیر جانبدار احتساب کا نظام موجود ہوتا تو شاید اس قدر قیمتی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جاتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر تمام غیر قانونی پلازوں اور تجارتی عمارتوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور حفاظتی نظام کو مؤثر بنائیں۔
ذمہ دار مالکان، ٹھیکیداروں اور اجازت دینے والے افسران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثال قائم کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے مجموعی نظام کی کمزوریوں اور اجتماعی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ یہ عہد کرنا ہوگا کہ انسانی جان کی حرمت کو ہر قسم کے فائدے، لالچ اور وقتی مفاد پر فوقیت دی جائے۔
یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ سانحہ محض ایک خبر بن کر ماضی کا حصہ نہ بنے بلکہ اصلاح، احتساب اور حقیقی تبدیلی کی بنیاد ثابت ہو۔
![]()