تحریر: سردار یوسفزئی
نائب صدر پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام اباد

منزہ سحر اردو زبان کی معاصر شاعرات میں ایک معتبر، فعال اور پہچانی جانے والی شخصیت ہیں۔ وہ 6 مارچ 1980ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ لاہور، جو صدیوں سے علم، ادب اور تہذیبی روایت کا مرکز چلا آ رہا ہے، ان کی فکری و تخلیقی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک ان کا تعلیمی سفر لاہور ہی میں مکمل ہوا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاھور سے گریجویشن کے بعد ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد منزہ سحر نے تدریسی شعبے کو بطور پیشہ اختیار کیا اور گزشتہ بیس برس سے انگلش زبان کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ تدریس اور تخلیق کا یہ امتزاج ان کی شخصیت میں فکری سنجیدگی اور ادبی توازن پیدا کرتا ہے، جو ان کی شاعری اور علمی سرگرمیوں میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
منزہ سحر کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999ء میں ہوا۔ ان کے شریکِ حیات معروف شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم پروفیسر خالد محمود آشفتہ ہیں۔ یہ ازدواجی رشتہ محض خانگی سطح تک محدود نہیں بلکہ ایک مضبوط ادبی و فکری شراکت ہے۔ دونوں میاں بیوی نہ صرف تخلیقی طور پر سرگرم ہیں بلکہ فکری ہم آہنگی بھی رکھتے ہیں، جس کے اثرات ان کے ادبی رویّے اور تخلیقی اظہار میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس ادبی جوڑے کو ایک اکلوتی بیٹی سے نوازا ہے، جو اس وقت لاہور کالج یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے اور انگلش لٹریچر میں ایم فل کر رہی ہے۔ بیٹی کی تعلیمی سمت اس گھرانے کی علمی اور ادبی روایت کے تسلسل کی علامت ہے۔

منزہ سحر نے شاعری کا آغاز فسٹ ایئر کے زمانے میں کیا۔ طالب علمی کے دور میں وہ باقاعدگی سے کچھ نہ کچھ لکھتی رہیں، تاہم اسی عرصے میں ان کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد ایک شاعر اور ادیب ہمسفر کی سرپرستی اور رہنمائی میں ان کا ادبی اور علمی سفر نئے عزم اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا۔ انہوں نے پہلے اپنی تعلیم مکمل کی، ملازمت اختیار کی اور اس کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔
ان کے ادبی حلقۂ احباب میں پروفیسر علمدار حیدر اوج کا نام نمایاں ہے، جو اردو زبان و ادب کے پروفیسر ہیں اور ان کا تعلق مریدکے سے ہے۔ وہ پروفیسر خالد محمود آشفتہ کے قریبی دوست ہیں اور علمی و ادبی وابستگی کے باعث لاہور کے ادبی حلقوں، خصوصاً مشاعروں میں ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ انہی مواقع پر منزہ سحر کو ان سے فکری اور ادبی مشاورت کا موقع ملا، جو ان کی شعری تربیت اور فکری پختگی میں معاون ثابت ہوا۔
ادبی تنظیمی سطح پر بھی منزہ سحر سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق لاہور کی رکن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نخلِ سخن کے نام سے اپنی ایک ادبی تنظیم قائم کی، جس کے تحت 2017ء سے ادبی تقریبات اور مشاعروں کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، کراچی سے شائع ہونے والے ادبی رسالے لوحِ ادب کے ساتھ بطور نمائندۂ لاہور منسلک ہیں۔

منزہ سحر کے پسندیدہ شعرا میں پنجابی کے میاں محمد بخش اور وارث شاہ، اردو کے محسن نقوی، احمد فراز، پروین شاکر اور انگریزی ادب کے John Keats اور John Donne شامل ہیں۔ ان شعرا کے فکری اور فنی اثرات ان کی شاعری میں بالواسطہ طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تخلیقی اعتبار سے منزہ سحر کی شاعری خاصی وقیع اور متنوع ہے۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے "روشنی” اور "خوبصورت” شائع ہو چکے ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھی مترجم بھی ہیں۔ انہوں نے اردو کی چار کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جو شائع ہو چکی ہیں:
Twenty Days in the UK (Travelogue) — ڈاکٹر یونس خیال
The Reflections (Poetry) — ڈاکٹر صغیر احمد صغیر
Life is an Anguish Text (Novel) — ڈاکٹر شاہدہ دیکاور شاہ
Seclusion of a Room (Poems) — قمر رضا شہزاد
تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو منزہ سحر کی شخصیت اور خدمات اس ادبی ماحول کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں تخلیق، تدریس، ترجمہ اور تنظیمی سرگرمیاں باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ ان کی زندگی اور کام اردو ادب میں خواتین کی فعال، سنجیدہ اور باوقار موجودگی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ فراہم کرتے ہیں۔

منزہ سحر کی ادبی خدمات اور تخلیقی کارناموں کے اعتراف میں مختلف معتبر ادبی تنظیموں کی جانب سے انہیں متعدد اعزازات، ایوارڈز اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔ ان کی علمی و ادبی اہمیت کے اعتراف کے طور پر ساغر ہاشمی فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ایک باوقار اور خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ان کی چادر پوشی کی رسم ادا کی گئی، جو ان کے ادبی مقام اور فکری وقار کا واضح اظہار ہے۔

محترمہ منزہ سحر کی شاعری محض ذاتی احساسات یا رومانوی کیفیات تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کے اجتماعی کرب، قومی المیوں اور سماجی شعور کی بھرپور ترجمان بھی ہیں۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر شاعری کی ہے، جن میں محبت، وجودی سوالات، نسوانی احساس، تہذیبی اقدار اور عصری مسائل نمایاں ہیں۔
جب پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا دہشت گردی کی بدترین لہر کی لپیٹ میں تھا، اور فوج،و پولیس کے جوانوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہری بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے، تو اس کٹھن اور آزمائشی دور میں منزہ سحر کا قلم خاموش نہ رہا۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مرثیے اور قصیدے تحریر کیے، جن میں درد، احترام اور قومی غیرت کی صدائیں یکجا ہو کر ابھرتی ہیں۔

اسی سلسلے کی ایک مؤثر اور دل کو چھو لینے والی نظم انہوں نے پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے ننھے شہید اعتزازحسن بنگش(تمغہ شجاعت) کے نام لکھی، جس نے کم عمری میں اپنی جان قربان کر کے سینکڑوں طلباء و اساتذہ کی جانیں بچائیں اور جرات، ایثار اور حب الوطنی کی ایک روشن مثال قائم کی۔ یہ نظم نہ صرف ایک فرد کو خراجِ تحسین ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور قومی شعور کی علامت بھی ہے۔

اعتزاز شھید کے نام
ہے عظمتوں کا کُھلا سمندر
وہ جرّاتوں کا مثالی پیکر

رکھی جو مُٹھی میں جان اُس نے
بچائی اپنوں کی آن اُس نے

وہ کام کچھ ایسا کر گیا ہے
کبھی نہ کہنا کہ مر گیا ہے

وہ اپنی ماں کا دُلارا بیٹا
شہید ہے وہ ہمارا بیٹا

ہمیں محبت سکھا گیا ہے
وہ کتنی ہمت دکھا گیا ہے

لہُو میں ڈُوبے ہوئے وہ پیکر
دُھلے ہیں اشکوں کے سارے منظر

بچا لیں اس نے ردائیں کتنی
سمیٹ لی ہیں دعائیں کتنی

اے میرے مولا کرم تُو کر دے
تُو ایسے بیٹوں سے دنیا بھر دے

جو غیرتوں سے لدے ہوئے ہوں
بہادری سے سجے ہوئے ہوں

میں جو بھی لکھوں بہت ہی کم ہے
کہ اسکی اُلفت میں آنکھ نم ہے

یہ لفظ میرے مری دعائیں
ہیں نام اسکے مری وفائیں

سحر ہے دنیا میں نام اس کا
نہ بھول پائیں گے کام اس کا
منزہ سحر کی شاعری میں امید، انتظار، حسرت اور خودکلامی کے عناصر نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں سامنے آتے ہیں۔ شاعرہ کا لہجہ نرم، استعارے شفاف اور جذبے مہذب ہیں، جو قاری کو ایک خاموش مگر دیرپا تاثیر عطا کرتے ہیں۔
وہ میرے واسطے سورج کا انتظام کرے
چراغ شب سے کہو کچھ تو اہتمام کرے

وہی تو ہے جو محبت کے پھول لایا ہے
اسے یہ حق ہے وہ خوشبو کو میرے نام کرے۔

دل حزیں! مجھے ہے ترا ملال مگر
جہاں سے کیسے کہوں تیرا احترام کرے۔

بس ایک حسرت ِ ناکام ہے ابھی باقی
میں اس کو سنتی رہوں اور وہ کلام کرے۔

کرم ہے زندگی تیرا جو امتحان لیے
وگرنہ کون یہاں اتنے سارے کام کرے۔

عجیب دل ہے یہ اپنا نصاب ہے اس کا
یہ اس کا ذکر کرے اور صبح و شام کرے۔

ہے اسکی یاد بھی اس کے ہی جیسی من موجی
یہ آ تو جائے مگر مختصر قیام کرے۔

ابھی تلک ہے ادھوری یہ داستان مری
وہ اپنی مہر لگائے اسے تمام کرے۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے