
اسلام آباد میں سانحہ ترلائی کے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف ملتِ جعفریہ پاکستان کے زیر اہتمام امام بارگاہ جی سکس ٹو سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ مرکزی اجتماع سے علامہ شیخ شفاء نجفی نے خطاب کیا جبکہ نماز جمعہ کے بعد نکالی گئی ریلی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آئی ڈی سی، انجمن جانثاران اور مختلف دینی و ماتمی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان شریک ہوئے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت کی سیکیورٹی پالیسی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سانحہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شہریوں، عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی ناقابل قبول ہے۔
سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ظلم کے خلاف احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور شہداء کے خون سے غداری نہیں کی جائے گی۔ امتِ واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ تکفیری عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر، کالعدم تنظیموں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، شہداء کے لواحقین کو مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں جبکہ زخمیوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر 15 دن کے اندر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ملک گیر پُرامن احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
سانحہ ترلائی: اسلام آباد میں شہداء سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی، قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہاسلام آباد میں سانحہ ترلائی کے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف ملتِ جعفریہ پاکستان کے زیر اہتمام امام بارگاہ جی سکس ٹو سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ مرکزی اجتماع سے علامہ شیخ شفاء نجفی نے خطاب کیا جبکہ نماز جمعہ کے بعد نکالی گئی ریلی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آئی ڈی سی، انجمن جانثاران اور مختلف دینی و ماتمی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان شریک ہوئے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت کی سیکیورٹی پالیسی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سانحہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شہریوں، عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی ناقابل قبول ہے۔سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ظلم کے خلاف احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور شہداء کے خون سے غداری نہیں کی جائے گی۔ امتِ واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ تکفیری عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر، کالعدم تنظیموں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، شہداء کے لواحقین کو مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں جبکہ زخمیوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر 15 دن کے اندر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ملک گیر پُرامن احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
![]()