
پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کی تعداد گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ بظاہر یہ ادارے معیاری تعلیم، جدید تدریسی طریقوں، بہتر نظم و ضبط اور سہولیات سے آراستہ ماحول کی فراہمی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تصویر ہر جگہ یکساں نہیں دکھائی دیتی۔ بہت سے نجی اسکول واقعی قابلِ ستائش خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ایک بڑی تعداد ایسے اداروں کی بھی موجود ہے جہاں تعلیم سے زیادہ مالی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے اور والدین کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور قوموں کی ترقی کا سب سے اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور اس امید کے ساتھ انہیں نجی اداروں میں داخل کرواتے ہیں کہ انہیں بہتر مواقع اور روشن مستقبل میسر آئے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات والدین کو اس اعتماد کے بدلے مایوسی، پریشانی اور انتظامی نااہلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نجی اسکولوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات فیسوں اور اضافی اخراجات کے بارے میں سامنے آتی ہیں۔ ہر سال مختلف ناموں سے فیسوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جبکہ والدین کو اس اضافے کی واضح وجوہات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ داخلہ فیس، سالانہ فنڈ، امتحانی فیس، سرگرمیوں کے اخراجات، کتابوں اور یونیفارم کے نام پر والدین پر مسلسل مالی بوجھ ڈالا جاتا ہے، جس سے متوسط طبقے کے لیے بچوں کی تعلیم ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
اگر بعض نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور انتظامیہ کے طرزِ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شعبہ کئی مقامات پر ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مہنگی گاڑیاں، وسیع کاروباری نیٹ ورک، نئی شاخوں کا تیزی سے قیام اور مالی وسعت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض اداروں میں تعلیمی معیار کے بجائے آمدنی میں اضافے کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
میرے اپنے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ گزشتہ سال میرا بھتیجا ایک نجی اسکول میں زیرِ تعلیم تھا جہاں ایک ناخوشگوار واقعے کے دوران اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کا ہاتھ فریکچر ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک بچے کے لیے تکلیف دہ تھا بلکہ پورے خاندان کے لیے شدید ذہنی اذیت اور تشویش کا باعث بھی بنا۔
اس وقت میں پاکستان میں موجود تھا اور ایک ذاتی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا جب میرے بھائی کی کال موصول ہوئی۔ انہوں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں مجھے بتایا کہ اسکول میں میرے بھتیجے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں اسے طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔ یہ خبر سن کر میں حیران اور غمزدہ رہ گیا کیونکہ کسی بھی والدین یا سرپرست کے لیے ایسی اطلاع انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
میں نے فوری طور پر اسکول انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے پرنسپل کو فون کیا۔ تاہم معلوم ہوا کہ وہ چھٹی پر تھے اور انہیں واقعے کی مکمل تفصیلات کا علم بھی نہیں تھا۔ یہ بات خود اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض اداروں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ذمہ دارانہ نگرانی کے نظام میں کتنی کمزوریاں موجود ہیں۔
بعد ازاں میری بات اسکول کے ایک ذمہ دار نمائندے سے کروائی گئی۔ میں نے انتہائی سنجیدگی سے صورتحال کے بارے میں سوالات کیے اور جاننا چاہا کہ واقعہ پیش آنے کے فوراً بعد انتظامیہ نے کیا اقدامات کیے تھے۔ میری توقع تھی کہ اسکول کے پاس ہر سوال کا واضح اور تسلی بخش جواب موجود ہوگا، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
میرا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ جب بچے کو شدید چوٹ لگی تو کیا والدین یا سرپرستوں کو فوری طور پر اطلاع دی گئی؟ کیا اسکول انتظامیہ نے خود بچے کو اسپتال منتقل کیا؟ کیا ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی؟ بدقسمتی سے ان سوالات کے جوابات غیر واضح اور غیر تسلی بخش تھے، جس سے انتظامی غفلت کا تاثر مزید مضبوط ہوا۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری صرف تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی جان، صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اگر کسی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو فوری ردِعمل، والدین سے رابطہ اور طبی امداد کا انتظام انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔
میں نے واقعے میں ملوث استاد کا نام، اس کے کردار اور پورے واقعے کی تفصیلات طلب کیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ساتھ ہی میں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو میں اسے عوامی سطح پر اٹھانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب معاملے کو عوامی سطح پر لانے کا ذکر کیا گیا تو صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ مختلف افراد کی جانب سے رابطے شروع ہو گئے اور معاملے کو خاموشی سے حل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بعض ادارے مسائل کے بنیادی حل کے بجائے ان کی تشہیر روکنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد متعلقہ استاد کے رشتہ داروں اور جاننے والوں کی طرف سے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اگرچہ تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا ایک مثبت عمل ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کو ابتدا ہی میں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔
اساتذہ معاشرے کے معمار کہلاتے ہیں اور ان کا کردار صرف کتابی علم منتقل کرنے تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور اعتماد کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک استاد سے صبر، برداشت، حکمت اور ذمہ داری کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے بعض نجی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور نفسیاتی تربیت کے بجائے کم تنخواہوں اور فوری دستیابی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض ایسے افراد بھی تدریسی شعبے میں آ جاتے ہیں جو بچوں کی نفسیات اور جدید تدریسی اصولوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متعدد نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ مستقل کیریئر کے بجائے عارضی بنیادوں پر ملازمت کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی اکثریت کی خواہش کسی سرکاری ملازمت یا بہتر روزگار کے مواقع حاصل کرنا ہوتی ہے، جس کے باعث بعض اوقات ادارے کے ساتھ طویل المدتی وابستگی اور تعلیمی بہتری کے جذبے میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔
تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں صرف ڈگریاں اور اسناد کافی نہیں ہوتیں۔ ایک کامیاب استاد کے لیے بچوں کی نفسیات کو سمجھنا، مختلف ذہنی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنا اور مثبت ماحول پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مضمون کا علم ہونا۔
نجی تعلیمی اداروں میں احتساب کے مؤثر نظام کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے والدین شکایات کے باوجود یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یا ان کے تحفظات کو مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔
والدین اکثر اس خوف کا شکار رہتے ہیں کہ اگر وہ انتظامیہ کے خلاف آواز بلند کریں گے تو اس کا اثر ان کے بچوں پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے معاملات منظرِ عام پر آنے کے بجائے خاموشی سے دب جاتے ہیں اور مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر نجی اسکول میں ایک شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے جہاں والدین اعتماد کے ساتھ اپنے تحفظات پیش کر سکیں اور انہیں بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔
حکومتی اداروں کو بھی نجی تعلیمی شعبے کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ صرف فیسوں کے معاملات ہی نہیں بلکہ تدریسی معیار، حفاظتی اقدامات، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کے حقوق اور انتظامی شفافیت کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ تمام نجی اسکول ایک جیسے نہیں ہیں۔ ملک میں بہت سے ایسے ادارے موجود ہیں جو واقعی معیاری تعلیم، تربیت اور بہترین انتظامی نظام کی مثال بن چکے ہیں اور والدین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ان کامیاب اداروں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ وہ طلبہ کی تعداد بڑھانے کے بجائے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ اساتذہ کی تربیت، والدین کے ساتھ رابطے اور طلبہ کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔
میری رائے میں اگر نجی تعلیمی ادارے صرف تعداد بڑھانے کے بجائے معیار کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، والدین کے اعتماد کا احترام کریں، طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور پیشہ ورانہ تربیت یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کریں تو نہ صرف ان کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ معاشرے میں ان کا مقام اور عزت بھی مزید بلند ہوگی۔
تعلیم ایک مقدس امانت اور قومی ذمہ داری ہے، اسے محض کاروباری سرگرمی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ آج کے یہی بچے کل کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر اور قومی رہنما بنیں گے، اور ان کی تعلیم و تربیت میں ہونے والی ہر کوتاہی دراصل پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔
![]()