گورنر فیصل کریم کنڈی گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن بحال کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 2013 میں سوات اور ضم شدہ اضلاع میں امن حکومت، عوام اور فورسز کی مشترکہ کوششوں سے بحال ہوا تھا، اور ایک پرامن صوبہ پی ٹی آئی کے حوالے کیا گیا تھا، لیکن آج غیرسنجیدگی کے باعث دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ کے حالات سب کے سامنے ہیں، جہاں وزیر اعلیٰ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ موجودہ خراب حالات کی ذمہ داری انہی پر ہے جنہوں نے امن کو ترجیح نہیں دی۔

گورنر نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ہم نے بارہا توجہ دلائی کہ امن و امان کو اولین ترجیح دی جائے، لیکن بدقسمتی سے سیاست کو حکومت پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو گالیاں دینے والے آج انہی کے ساتھ بیٹھے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین کی قربانیوں کے باوجود کبھی ملک دشمن عناصر سے مدد نہیں مانگی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر ملک کو متحد کیا۔

گورنر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں، جن کے بہتر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں لگانے کے لیے یوتھ انگیجمنٹ ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ آئیں، صوبے کا مقدمہ مل کر لڑیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی 55 لاکھ بڑھ گئی ہے، اس لیے این ایف سی میں ان کیلئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے، جو وفاق کے ساتھ بیٹھ کر ہی ممکن ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی سزا کا معاملہ عدالتوں کا ہے، لہٰذا پی ٹی آئی قیادت کو چاہیئے کہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالتوں میں جائیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے