محمد منیر

پشاور: صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر خیبر پختونخوا (EOC) نے یونیسف کے تعاون سے اسکولوں میں طلبہ کو پولیو کے خاتمے کے لیے امیونائزیشن ایمبیسڈر بنانے کا اہم منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو صحت عامہ کی آگاہی میں مؤثر کردار دینے کے ساتھ ساتھ ویکسینیشن کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

پروگرام کے تحت پشاور کے منتخب اسکولوں کے طلبہ کو خصوصی تربیت اور معلوماتی مواد فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے گھروں، محلوں اور کمیونٹی میں پولیو ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کر سکیں۔ اس سلسلے کی پہلی تقریب گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول نمبر 4 کاکشال، پشاور سٹی میں منعقد ہوئی، تاہم مستقبل قریب میں ان پروگراموں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشنز سینٹر شافیع اللہ خان، ٹیکنیکل فوکل پرسن PEI EOC KP ڈاکٹر علی حیدر، صوبائی پولیو ایریڈیکیشن آفیسر WHO ڈاکٹر سردار عالم، یونیسف کی سوشل اینڈ بیہیویر چینج اسپیشلسٹ دیانا ماریا پیرگا، سعدیہ اعجاز، شاداب یونس، اسکول پرنسپل، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

خطاب کرتے ہوئے شفیع اللہ خان نے کہا کہ طلبہ معاشرے میں مضبوط پیغام بردار ہوتے ہیں اور وہ پولیو سے متعلق غلط تصورات کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شمولیت کمیونٹیز میں طویل مدتی اعتماد پیدا کرنے اور صحت عامہ کے پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے۔

یونیسف کی کمیونیکیشن آفیسر شاداب یونس نے بتایا کہ پروگرام کے تحت طلبہ کو امیونائزیشن کلب کا رکن بنایا جائے گا جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو صوبائی EOC کی جانب سے تعریفی اسناد دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین سے ہچکچاہٹ، غلط معلومات اور کمزور کمیونٹی شمولیت پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی بڑی رکاوٹیں ہیں جنہیں نوجوانوں کی مدد سے مؤثر طور پر دور کیا جا سکتا ہے۔

تقریب میں پشتو تھیٹر ڈرامہ "کاروان د اُمیدونو” بھی پیش کیا گیا، جسے معروف رائٹر و ڈائریکٹر نور البشر نوید نے ترتیب دیا تھا۔ جس میں ٹی وی، ریڈیو اور سٹیج کے معروف فنکاروں نے حصہ لیا۔ جنہیں دیکھ کر بچے کافی محظوظ ہوئے۔ ڈرامے کو طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں نے بے حد پسند کیا۔ ڈرامے میں مرکزی کردار ایک پولیو متاثرہ بچے کا تھا جسے حسن منیر نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیا۔ شرکا نے اس کے کردار کو خوب سراہا اور اس کے دکھ درد کو بھرپور انداز میں محسوس کیا۔

ڈرامے کا بنیادی مقصد طلبہ کو امیونائزیشن ایمبیسڈر کے طور پر پیش کرنا تھا تاکہ وہ گھر جا کر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کو پولیو کے خطرات اور ویکسینیشن کی اہمیت سے آگاہ کر سکیں۔ اس مکالمے اور شعور کے فروغ سے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے، جو پولیو جیسی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔

تقریب کا اختتام صوبائی EOC اور اسکول انتظامیہ کے شکریے کے ساتھ ہوا، جبکہ طلبہ نے عہد کیا کہ وہ پولیو کے خلاف جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اپنی کمیونٹی میں آگاہی کا پیغام عام کریں گے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے