باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی)
خیبر پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2024 کے دوران ضلع خیبر میں مجموعی طور پر 690 مقدمات درج کیے گئے تھے جبکہ 957 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس رواں سال جرائم میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں 1589 مقدمات درج کیے گئے اور 1603 ملزمان کو گرفتار کیا گیاجو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 899 مقدمات زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق موٹر سائیکل سنیچنگ، موبائل فون چھیننے اور دیگر چوری چکاری کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی روک تھام میں خیبر پولیس مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انہی وارداتوں میں ایچ بی ایل بینک کی بڑی ڈکیتی بھی شامل ہےتاہم بینک ڈکیتی کیس میں تاحال کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
خیبر پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک سالہ کارکردگی تشہیری رپورٹ کے مطابق ضم اضلاع میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں جن کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پولیس نے منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے مؤثر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کیے جن کے نتیجے میں بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ ضبط کیا گیا اور اہم ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات میں 3782 کلوگرام چرس، 416 کلوگرام افیون، 746 کلوگرام آئس، 355 کلوگرام ہیروئن، 179 لیٹر شراب، 21,898 ایکسٹیسی گولیاں اور 203 کلوگرام کیمیکل شامل ہیں، جبکہ متعدد منشیات تیار کرنے والی فیکٹریوں کو بھی سیل کیا گیا۔
اسی طرح غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائیوں میں 6 مارٹر گولے، 17 آر پی جی سیون گولے، 58 کلاشنکوف، 172 پستول، 245 کلوگرام بارود، 119 ہینڈ گرنیڈ، 251 میگزین اور 8108 مختلف بور کے کارتوس برآمد کیے گئے۔
دوسری جانب رواں سال چوری چکاری اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے درست ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے پولیس کے متعلقہ اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا تاہم تادمِ تحریر کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے دوران درجنوں چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں موٹر سائیکل سنیچنگ کے کیسز سرفہرست ہیں۔
اس حوالے سے ڈی پی او خیبر وقار احمد کا کہنا ہے کہ خیبر پولیس میں خود احتسابی کا مؤثر نظام رائج ہے اچھی کارکردگی کا اعتراف کیا جاتا ہے جبکہ غفلت یا کوتاہی کی صورت میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ اعداد و شمار پولیس ڈیپارٹمنٹ خیبر کی جانب سے جاری کردہ تشہیری مہم اور سرکاری کارکردگی رپورٹ کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے