
امجد ہادی یوسفزئی
پشتو فلموں کے بانی اداکار امان محض ایک فنکار نہیں بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک فکری تسلسل کا نام ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنی اداکاری سے پشتو سینما کو شناخت دی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی آواز کو قلم کے ذریعے بھی قارئین تک پہنچایا۔
پہلی کتاب "میں ایک فلاپ ہیروــــلیکن” کے بعد
ان کی دوسری کتاب “زندگی کے وہ سنہری اکیس دن” دراصل عمرۂ مبارک کے اس روحانی سفر کی روداد ہے جو محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، کیفیات اور باطنی تبدیلیوں کی ایک مکمل داستان ہے۔
یہ کتاب کسی رسمی مذہبی تحریر کا انداز اختیار نہیں کرتی بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان کی آنکھ سے دیکھا گیا وہ سفر ہے جس میں ہر لمحہ دل پر نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔ امان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری خود کو محض پڑھنے والا نہیں بلکہ اس روحانی سفر کا ہم رکاب محسوس کرتا ہے۔ مکہ کی گلیاں، حرم کی وسعت، خانہ کعبہ کا پہلا دیدار، طواف کی گردش، سعی کی دوڑ اور مدینہ منورہ کی پرنور فضائیں ـ سب کچھ اس سادگی اور خلوص سے بیان کیا گیا ہے کہ لفظ لفظ میں عقیدت اور وارفتگی جھلکتی ہے۔
کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری خود احرام باندھے ہجومِ عاشقاں میں شامل ہے۔ امان ہر مقام پر اپنی داخلی کیفیت کو جس ایمانداری سے بیان کرتے ہیں، وہ اس تحریر کو محض سفرنامہ نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک روحانی مکالمہ بنا دیتی ہے۔ کہیں آنکھوں میں آنسو ہیں، کہیں دل میں سکون کی لہر، کہیں گزری ہوئی زندگی کا محاسبہ اور کہیں آئندہ کے لیے خود سے کیے گئے عہد۔
اسی کتاب کی ادبی و فکری اہمیت کا اعتراف اس وقت بھی سامنے آیا جب چائنا ونڈو پشاور میں “زندگی کے اکیس سنہرے دن” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا ڈاکٹر بختیار خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے ہر دور میں ایسے نامور اداکار پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف ملک کے اندر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ بیرونِ ملک بھی مثبت تشخص اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کے بعد یادداشتوں اور فکری موضوعات پر کتابیں تحریر کرنا ایک قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید عمل ہے۔
ڈاکٹر بختیار خان نے اس بات پر زور دیا کہ امان نے اپنی کتاب میں عمرہ کے مناسک اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کی تفصیل نہایت خوبصورتی سے بیان کی ہے، جس سے یہ تصنیف محض ادبی نہیں بلکہ معلوماتی اہمیت بھی اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے امان کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تصنیف ادبی دنیا میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے گی۔
تقریب میں سابق اداکار جمیل بابر، معروف شاعرہ و مصنفہ بشریٰ فرخ، کلثوم زیب، اداکارہ شازمہ حلیم، ممتاز محقق حاجی اسلم خان، پروفیسر اباسین یوسفزئی، ذوالفقار قریشی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ سینئر اداکار جمیل بابر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امان نے اپنے سفرِ حرمین کو ایک گہرے روحانی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے اور کتاب میں فکری پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔
پروفیسر اباسین یوسفزئی نے کتاب کو ادبی میدان میں ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداکاری کے بعد دوسری کتاب کی اشاعت امان کی فکری وسعت کا ثبوت ہے، جبکہ بشریٰ فرخ کے مطابق ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جو اسے نیا راستہ دکھاتا ہے، اور یہی لمحہ امان کے لیے اس سفرنامے کی تخلیق کا سبب بنا۔
مصنف اور اداکار امان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمرہ کی ادائیگی ان کے لیے ایک روحانی آزمائش اور نعمت تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنے تجربات کو کتابی شکل دی تاکہ قارئین نہ صرف عمرہ کے مناسک بلکہ مقدس مقامات کی روحانی فضا کو بھی محسوس کر سکیں۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ اداکار مذہب یا روحانیت سے دور ہوتے ہیں، اور کہا کہ فنکار بھی حساس دل رکھنے والے انسان ہوتے ہیں جو اللہ کی عبادت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
“زندگی کے وہ سنہری اکیس دن” دراصل ایک فنکار کے باطن کا سفر ہے، جہاں شہرت، پہچان اور اسکرین کی چکاچوند پیچھے رہ جاتی ہے اور انسان صرف ایک بندہ بن کر اپنے رب کے حضور کھڑا نظر آتا ہے۔ سادہ، رواں اور بے ساختہ زبان میں لکھی گئی یہ کتاب قاری کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہےـ بغیر کسی وعظ، بغیر کسی حکم کے۔
بلاشبہ امان کی یہ تصنیف اردو ادب اور روحانی سفرناموں میں ایک خوشگوار اضافہ ہے، ایسی تحریر جو پڑھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔
![]()