امجد ہادی یوسفزئی

خیبر پختونخوا میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی صورتحال اب کسی معمولی انتظامی کوتاہی یا کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ مکمل ریاستی ناکامی کی واضح مثال بن چکی ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس پر ہر آنے والی حکومت نے وعدے کیے، منصوبے بنائے اور دعوے دہرائے، مگر عملی طور پر عوام کو صاف پانی، محفوظ ماحول اور صحت مند زندگی فراہم کرنے میں سب ناکام رہیں۔ آج صوبے کے بیشتر شہری اور دیہی علاقے اس بحران کی براہِ راست قیمت بیماری، غربت اور کمزور انسانی صحت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔

حقائق اس ناکامی کو بے رحمی سے بے نقاب کرتے ہیں۔ ملک کی سطح پر صرف 39 فیصد لوگ ہی محفوظ پینے کے پانی تک رسائی رکھتے ہیں، یعنی 61 فیصد عوام غیر محفوظ یا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پینے کے صاف پانی تک رسائی صرف 19فیصد ہے اور باقی 81 فیصد سے زائد آبادی اس بنیادی سہولت سے محروم ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اکثریت لوگوں کو یا تو آلودہ پانی پینا پڑتا ہے یا غیر معیاری ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ مختلف سرکاری و غیر سرکاری جائزوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے گھروں میں استعمال ہونے والے پانی کا بڑا حصہ جراثیم سے آلودہ پایا گیا ہے، اور فروخت ہونے والے بوتل بند پانی کے نمونوں میں سے ایک بڑی تعداد غیر معیاری اور مضر صحت قرار دی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی کی نگرانی اور معیار کا نظام عملاً غیر فعال ہو چکا ہے۔

آلودہ پانی اور ناقص صفائی کے نتیجے میں اسہال، ہیضہ، یرقان، جلدی امراض اور بچوں میں غذائی کمزوری جیسے مسائل تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی سے پھیلنے والی بیماریاں مجموعی بیماریوں میں تقریباً 80 فیصد حصہ رکھتی ہیں اور ان امراض کی وجہ سے ہونے والی اموات کل اموات کا قریباً 33 فیصد حصہ ہیں۔ صرف اسہال اور پانی سے جڑے امراض کی وجہ سے ہر سال 53,000 بچوں کی پانچ سال کی عمر سے پہلے موت واقع ہوتی ہے، جبکہ بہت سے بچے مستقل بیماری، غذائی قلت اور نشوونما کے محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں 20.5 ملین سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے 57.5 فیصد ایسے ہیں جو پانی اور صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث شدید خطرے میں ہیں، اور یہ خطرہ دیہی علاقوں کے بچوں میں تقریباً 70 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹیں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیاں، معذوری، غربت، بیماریاں، تعلیمی نقصان اور انسانی عزت کی پامالی ہیں جو مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

افسوسناک ترین حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان اعداد و شمار کے باوجود نہ حکومت نے حقیقی اصلاحات نافذ کی ہیں، نہ ہی عوامی شعور میں خاطرخواہ تبدیلی آئی ہے۔ بورڈ روموں میں بننے والی “پابلیسٹی” کی منصوبہ بندی اور سرکاری بیانات عوام کے گھروں میں آلودہ پانی، گندی نالیوں اور گندگی کے ڈھیر کے سامنے بے اثر ہیں۔ پانی، صفائی اور حفظانِ صحت پر صرف اخبارات کے اشتہارات، سیمیناروں اور تقاریر کے پیچھے چھپنے سے حالات نہیں بدلتے۔ عوام کی زندگیوں کی بھلائی تبھی ممکن ہے جب صاف پانی تک قانونی، مسلسل اور قابلِ عمل رسائی فراہم کی جائے، حکومت ہر سطح پر شفاف ٹیسٹنگ، مستقل نگرانی اور معیار بندی لاگو کرے، بلدیاتی اور انتظامی ادارے کو حقیقی وسائل، اختیارات اور ذمہ داری دی جائے، عوامی شعور اور تربیت کے پروگرام کو اسکول، مساجد اور کمیونٹی لیول تک پہنچایا جائے اور ان اداروں اور حکومتی اہلکاروں کا سخت احتساب ہو جو عوام کی صحت کے حق میں ناکام رہے۔

یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ آج مسئلہ صرف پینے کا پانی نہیں بلکہ انسانی جانوں کی بقا، بچوں کی مسکان، والدین کی امید اور معاشرتی تحفظ ہے جس پر سیاست، عدم توجہی اور بیوروکریسی کی بے حسی نے دہائیوں تک پاؤں جمائے ہوئے ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کو اب بھی حکومتی ترجیح نہ بنایا گیا تو یہ بحران صرف بیماریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک گہرے سماجی اور معاشی سانحے میں تبدیل ہو جائے گا، اور تب اعداد و شمار صرف رپورٹوں کا حصہ رہ جائیں گے، جبکہ حقیقی انسانی نقصان ہماری تاریخ کی سب سے بڑی شرمندگی بن جائے گا۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے