
خیبر (امان علی شینواری) خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں مبینہ طور پر طبی عملے کی غفلت اور کوتاہی کے باعث ایک نومولود جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے نے علاقے میں صحت سہولیات کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ بچے کے والد، ملک شاہ ولد حبیب جان، سکنہ لنڈی کوتل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل ان کی اہلیہ کی طبی حالت غیر مستحکم تھی اور کیس نہایت پیچیدہ نوعیت کا تھا۔ فوری طور پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل منتقل کیا گیا، جہاں لیبر روم میں ڈیوٹی پر موجود عملے کی جانب سے مبینہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔
ملک شاہ کے مطابق ان کی اہلیہ کے پیٹ میں جڑواں بچے تھے۔ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ڈاکٹروں نے کیس کو سنبھالنے کے بجائے مریضہ کو پشاور کے ایک ہسپتال ریفر کرنے کی ہدایت کی۔ ریفر کرنے کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کے باعث مریضہ کی حالت مزید بگڑ گئی۔ پشاور منتقلی کے دوران راستے میں دوسری ولادت ہوئی، جس کے نتیجے میں دوسرا نومولود جاں بحق ہو گیا جبکہ والدہ کی حالت بھی انتہائی تشویشناک ہو گئی۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ 1122 ریسکیو سروس کی جانب سے فراہم کی گئی ایمبولینس نہایت خستہ حال اور ناکارہ تھی، جو طویل سفر کے قابل نہیں تھی۔ ایمبولینس کی خراب حالت کے باعث سفر کے دوران مریضہ کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور ساتھ موجود افراد کو بھی سخت اذیت برداشت کرنی پڑی۔ ملک شاہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی ایمبولینسز ہی اس قدر ناگفتہ بہ حالت میں ہوں تو شدید بیمار مریضوں کا کیا بنے گا۔
متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ہسپتال میں آئے روز پیش آ رہے ہیں جو عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔
دوسری جانب، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر احتشام نے موقف اختیار کیا ہے کہ متاثرہ خاندان تحریری شکایت درج کرائے۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کے خلاف مکمل انکوائری کی جائے گی اور اگر کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
![]()