پشاور (فیاض شاداب) صوبائی وزیرِ صحت نے تمام متعلقہ سربراہان کو واضح اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو افسران اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ناکام ہیں اور فرائض سے عدم وابستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، انہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت ایک مقدس فریضہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سب عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور ایمانداری، لگن اور دیانت داری کے ساتھ خدمت کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خلیق الرحمٰن نے کہا کہ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت ہسپتالوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں اور اس ضمن میں فنڈز، افرادی قوت اور ضروری طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ خلوص، پیشہ ورانہ جذبے اور دیانت داری کے بغیر کسی بھی قسم کی مثبت اور دیرپا بہتری ممکن نہیں۔

صوبائی وزیرِ صحت نے ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائیں اور اپنے اداروں میں مضبوط نگرانی اور مانیٹرنگ کا نظام قائم کریں تاکہ بدعنوانی، غفلت یا بدانتظامی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ایمرجنسی یونٹس کی چوبیس گھنٹے، بالخصوص رات کے اوقات میں نگرانی پر زور دیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کا رویہ اور طرزِ عمل مریضوں کے علاج اور اطمینان میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مریضوں، تیمارداروں اور آنے والے افراد کے ساتھ خوش اخلاقی، احترام اور ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے، کیونکہ نرم رویہ عوام کے اعتماد اور اطمینان میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ حکام کو ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور بہتر انتظامی امور کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صحت مند اور صاف ستھرا ماحول معیاری علاج کا لازمی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے سربراہان محکمہ صحت کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان کی فعال، مستعد اور ذمہ دار انتظامیہ کے ذریعے نمایاں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے تمام شرکائ کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو عوامی توقعات اور مثالی معیار تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن مالی، اخلاقی اور انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے بطور وزیرِ صحت اپنے دور میں مختلف ہسپتالوں میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں اور بہتری کو سراہا، تاہم اس امر پر بھی زور دیا کہ اب بھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس مقصد کے لیے مسلسل محنت اور نگرانی ناگزیر ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے