پولیس میں رپورٹ درج ہونے کے باوجود آج تک انصاف نہیں مل رہا، ڈاکٹر میاں منور گل
پشاور(نیوز رپورٹر) کرک سے تعلق رکھنے والے پشاور کے ڈاکٹر میاں منور گل نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ان کی لے پالک بیٹی اور اس کے رشتہ داروں نے ان کے محنت سے بنائے گئے دو کنال رقبے پر واقع گھر جو حیات آباد فیض ون،سٹریٹ نمبر فائیو، سیکٹر پی فائیو میں واقع ہے پر ان کی لے پالک بیٹی مریم اور اس کے سسرالیوں نے مل کر مجھے زبردستی بے دخل کیا اور دو کنال اراضی پر واقع کوٹھی پر زبردستی قبضہ کر لیا۔اس سلسلے میں وہ حیات آباد پولیس سٹیشن میں رپورٹ بھی درج کرا چکے لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود نہ تو ان کے لیے گھر واگزار کرایا گیا اور نہ ہی ان کو انصاف فراہم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ورسک روڈ پر ان کا چار کنال رقبے پر پلاٹ پر بھی ملنگ جان اور فضل شاہ نامی شخص نے پہلے قبضہ کیا پھر فراڈ اور جعلی انتقال کے ذریعے فروخت کیا۔انہوں نے کہا کہ میڈی کیئر ہسپتال کنال روڈ،دانش آباد پشاور بورڈ پر بھی ان کی لے پالک بیٹی اور ان کی مرحومہ بیوی کے بھائیوں اور بہنوں نے قبضہ کیا ہوا ہے کیونکہ یہ جائیداد میں نے اپنی بیوی کے نام لی تھی اور 2021ء میں میری بیوی کے انتقال کے بعد میرے سالوں اور سالیوں نے میڈی کیئر ہسپتال پر قبضہ کیا ہوا ہے جو میرے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے فریاد سناتے ہوئے کہا کہ میری کوئی اولاد نہیں اور ان حالات کے باعث میں نے اپنے سالے سے اس کی بیٹی لے پالک لی تھی جس کا خمیازہ آج میں بھگت رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری تمام جائیداد اور عمر بھر کی جمع پونجی پر دھوکے سے کچھ دوست قابض ہوئے جبکہ میری لے پالک اولاد اور اس کے رشتہ داروں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ڈاکٹر میاں منور گل نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل آف پولیس سے اپیل کی کہ انہیں ان کی عمر بھر کی جمع پونجی جس پر ان کے عزیز و اقارب نے قبضہ جمایا ہوا ہے انہیں واپس دلائی جائے اور جن لوگوں نے ان کے پلاٹ فراڈ کے ذریعے فروخت کئے ان کے خلاف کاروائی کر کے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس عمر میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

![]()