سول ڈیفنس کے کردار کو تسلیم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے،چیف وارڈن پشاور
پشاور(نیوز رپورٹر) سول ڈیفنس آرگنائزیشن خیبر پختونخوا کے چیف وارڈن سید فیاض علی شاہ نے کہا ہے کہ 1992ء ایکٹ کے تحت سول ڈیفنس پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ سول ڈیفنس کو ریلیف ڈیپارٹمنٹ کے تحت کر دیا گیا، حکومت کو چاہیے کہ سول ڈیفنس کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کی چھتری کے نیچے لایا جائے اور سول ڈیفنس کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کا سٹیک ہولڈر بنایا جائے کیونکہ اس وقت محکمہ داخلہ میں سول ڈیفنس آرگنائزیشن کا کوئی سٹیک ہولڈر شامل نہیں۔ سید فیاض علی شاہ نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم دیکھیں تو ہم خیبر پختونخوا میں اپنی مدد آپ کے تحت سول ڈیفنس کے افراد رضاکار خدمات سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ بارش ہو یا طوفان، زلزلہ ہو یا آندھی سول ڈیفنس کے رضاکار بغیر لالچ کے رضاکار مصیبت کی ہر گھڑی میں خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں جس کی زندہ مثال بونیر، سوات اور دیر میں ہونے والے سیلاب زدگان کی امداد ہے جہاں پر آج بھی سول ڈیفنس کے رضاکار مسلسل خدمت میں مصروف ہیں، جن میں متاثرین کے گھروں سے سیلاب کے دوران ہونے والی تباہی کی صفائی بھی شامل ہے اور جس جذبے سے سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں شہید ہونے والوں کی تدفین کی اور ان کی بحالی کے لیے کردار ادا کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سول ڈیفنس کے وارڈن کے ساتھ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید فیاض علی شاہ نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2012 میں بند کیے گئے ایک فیصد فنڈ کو ایگزیکٹو ارڈر کے ذریعے بحال کیا جائے اور پنجاب کے طرز پر سول ڈیفنس کو مکمل طور پر فعال کیا جائے جس میں حکومت کی سرپرستی شامل ہو کیونکہ سول ڈیفنس آرگنائزیشن کا شمار دفاعی فورس میں ہوتا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کسی اور ڈیفنس کو محکمہ داخلہ کے انڈر لا کر انہیں بجٹ فراہم کیا جائے اور انتظامی امور میں انہیں نمائندگی دی جائے۔ پریس کانفرنس سے صوبے کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے رضاکاروں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول ڈیفنس آرگنائزیشن کے رضاکاروں کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور انہیں عزت دی جائے اور انہیں باقاعدہ طور پر دفاعی فورس میں بھی شامل کیا جائے اور ان کا اعزازیہ یہ مقرر کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

![]()