

طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے خلاف مقامی عوام، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مزدوروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاک افغان شاہراہ پر سینکڑوں مسافر اور ڈرائیور بے یار و مددگار حالت میں پڑے ہیں اور بارڈر کھلنے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش سے نہ صرف دونوں ممالک کے قومی خزانوں کو یومیہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ دو ہزار سے زائد مقامی مزدور بھی بے روزگاری اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔مقررین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ہم جنگ نہیں بلکہ امن اور تجارت چاہتے ہیں۔ مظاہرین نے نعرے لگائے: “بحال کرو، بحال کرو — طورخم بارڈر پر روزگار کو بحال کرو”۔احتجاج میں مختلف سیاسی، سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور مقامی مزدوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
![]()