قتل کے 49، اقدام قتل کے 63، 506کے 95، پولیس مقابلے 25، منشیات فروشوں کے خلاف 883 رپورٹس درج کی گئیں
پشاور(مدثر زیب سے) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے احکامات اور وژن کے مطابق کسی بھی جرم یا واردات کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کی واضح مثال پشاور میں رواں سال کے ابتدائی 36 دنوں کے دوران مختلف نوعیت کی 5143 ایف آئی آرز کا اندراج ہے، جبکہ گزشتہ سال 2025 کے پہلے 36 دنوں میں 5542ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں۔رواں سال 2026 میں 01.01.2026 سے 05.02.2026 تک کے دوران ایف آئی آر کے اندراج میں قتل کے 49، اقدام قتل کے 63، 337 (A.V.F) کے 43، 506 کے 95، پولیس مقابلے 25، منشیات فروشوں کے خلاف 883، منشیات ڈیلروں کے خلاف 442، اسلحہ ایکٹ میں 916، شراب میں 90، سرچ آپریشنز اور جنرل کاروائیوں میں غیر قانونی رہائش پذیر 963، 12SVEP ACT کے 95، ہوائی فائرنگ پر 209، متفرق کیسز کے 432، لوکل اینڈ سپیشل لا کے 111، تیز رفتاری پر 262، ایکسیڈنٹ کے 23، الیکٹریسٹی ایکٹ کے 12، لوڈ سپیکر ایکٹ پر 30، 14 فارن ایکٹ کے 27، موٹر سائیکل لفٹنگ 39، موٹر سائیکل سنیچنگ 31، کار لفٹنگ کے 10، کار سنیچنگ کے 2، 382PPC کے 42، 379PPC کے 34، 457.454.380 کے 19، 392.394 کے 54، ڈکیتی کے 2، 365B کے 8، 364A کے 3، 365 کے 6، 376 کے 7، 377 کے 7 اس کے علاوہ سود خور، قبضہ مافیا، سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے اور دیگر غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف درج ایف آئی آرز شامل ہیں۔

واضح رہے کہ کرائم اگینسٹ پراپرٹی اور پرسن میں نمایاں کمی آئی ہے، اور درج کیے گئے ایف آئی آرز کے اعداد و شمار میں زیادہ تر پراگرس کے ایف آئی آرز یعنی اسلحہ کے خلاف، ہوائی فائرنگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور منشیات کے خلاف مقدمات شامل ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف جرائم کی روک تھام میں موثر ثابت ہو رہے ہیں بلکہ شہر میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد اور ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کی واضح ہدایات ہیں کہ کسی بھی جرم کی صورت میں فوری ایف آئی آر کا اندراج لازمی ہے تاکہ جرم کے خلاف بروقت مثر کارروائی اور روک تھام کے اقدامات کیے جا سکیں۔ اگر ایف آئی آر یا کوئی جرم چھپایا جائے تو اس کا نقصان نہ صرف عوام بلکہ پولیس کو بھی اٹھانا پڑتا ہے، کیونکہ جرم برقرار رہتا ہے اور پولیس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پشاور پولیس کی کارکردگی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مثر اور فوری کارروائیوں کے باعث شہر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پولیس کی جانب سے سرچ آپریشنز، ناکہ بندی اور انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے متعدد مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سٹریٹ کرائمز میں ملوث عناصر ، منشیات فروشوں اور قبضہ مافیا ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے خلاف سخت اقدامات نے عوام کو درپیش مسائل میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کی یہی مستعدی اور بروقت اقدامات شہریوں کے اعتماد کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔کیپٹل سٹی پولیس پشاور ملوث ملزمان کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے