
پشاور(خلیل الرحمان) خواجہ سرا برادری نے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت وعدہ کی گئی رقم اور سرٹیفکیٹس کی عدم فراہمی کے خلاف پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود انہیں نہ 73 ہزار روپے دیے گئے اور نہ ہی کورس مکمل کرنے کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
خواجہ سرا لیڈر اور منزل فاؤنڈیشن کی سربراہ ارزو خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے تحت، جو انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈیویلپمنٹ (ایفاد) کے تعاون سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقد ہوا، خواجہ سراؤں کو بیوٹیشن کا 10 روزہ کورس کرایا گیا تھا۔ ان کے مطابق کورس مکمل کرنے کے بعد ہر شریک کو 73 ہزار روپے اور سرٹیفکیٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
ارزو خان نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حکام ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے شرکاء کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی خواجہ سراؤں نے باعزت روزگار کے حصول کی امید میں دیگر سرگرمیاں ترک کر دیں، مگر اب انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
پریس کانفرنس کے بعد خواجہ سراؤں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں ان کا حق نہ دیا گیا تو وہ خیبر پختونخوا بھر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
![]()