
یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ اور افسوسناک پہلو ہے کہ جب دین کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ فوراً الجھن، لاعلمی اور بہانوں کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا معلوم کس کی بات ماننی ہے اور کس کی نہیں، ہر طرف مختلف علما کی آراء ہیں، اس لیے ہم کسی ایک راستے کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ بظاہر یہ بات معقول لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سوچ ذمہ داری سے بچنے کی ایک شکل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو یوں ہی پیدا نہیں کیا بلکہ ایک مقصد کے تحت دنیا میں بھیجا ہے۔ وہ مقصد عبادت ہے، اطاعت ہے اور شعوری زندگی گزارنا ہے۔ یہ بات قرآنِ مجید میں واضح انداز میں بیان کی گئی ہے کہ انسان اور جنات کو اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا۔ جب مقصد اتنا واضح ہے تو پھر اس مقصد کو پورا کرنے کے طریقے سے لاعلمی کا عذر کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟
عبادت کوئی اندھا دھند عمل نہیں بلکہ ایک منظم طرزِ زندگی کا نام ہے۔ اس کے اصول، طریقے اور حدود قرآن و حدیث میں پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔نماز، روزہ، زکوٰۃ، معاملات، اخلاق اور معاشرت سب کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ رہنمائی موجود نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس کی طرف توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ہم دنیاوی مشاغل میں گھنٹوں بلکہ مہینوں لگا دیتے ہیں۔ فلمیں، ڈرامے، سوشل میڈیا، کھیل اور تفریح ان سب کے کردار، کہانیاں اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات ہمیں زبانی یاد ہوتی ہیں۔ اداکاروں کے نام، ان کی ذاتی زندگیاں، حتیٰ کہ ڈراموں میں دکھائے گئے بچوں کی عمریں تک ہمیں معلوم ہوتی ہیں، مگر جب قرآن و حدیث کی بات آتی ہے تو ہم فوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں۔
یہ لاعلمی اکثر فطری نہیں بلکہ اختیاری ہوتی ہے۔ یعنی انسان نے خود یہ فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ اسے اس طرف محنت نہیں کرنی۔ کچھ لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہم عالم نہیں ہیں، اس لیے ہمیں دینی مسائل کی سمجھ نہیں آتی۔ حالانکہ دین نے کہیں بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہر مسلمان مجتہد یا بڑا عالم بنے، بلکہ یہ ضرور کہا ہے کہ اتنا علم حاصل کرو جو تمہیں صحیح اور غلط میں فرق سکھا دے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علم حاصل کرنا صرف علماء کا کام نہیں بلکہ ہر مسلمان پر اس کی حیثیت کے مطابق فرض ہے۔ جیسے دنیاوی معاملات میں ہم ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل پر اندھا اعتماد نہیں کرتے بلکہ خود بھی بنیادی معلومات رکھتے ہیں، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی کم از کم بنیادی شعور ضروری ہے۔
دنیاوی بیماری کی مثال لیجیے۔ اگر کسی کو شدید درد ہو تو وہ ایک ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، پھر دوسرے کے پاس، پھر تیسرے کے پاس بھی مشورہ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ڈاکٹروں کی آراء مختلف ہیں، اس لیے میں علاج ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ بلکہ وہ تحقیق کرتا ہے، پوچھتا ہے اور بہتر رائے تلاش کرتا ہے۔
مگر دین کے معاملے میں ہم بالکل الٹی منطق اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں اختلاف نظر کو بہانہ بنا کر عمل چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے فلاں عالم کچھ اور کہتے ہیں اور فلاں کچھ اور، اس لیے میں کچھ بھی نہیں کروں گا۔ یہ رویہ نہ عقلی ہے اور نہ ہی دینی۔
حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ہر علم میں ہوتا ہے۔ طب، قانون، سیاست اور سائنس میں بھی اختلافات موجود ہیں، مگر اس کے باوجود لوگ ان علوم کو چھوڑ نہیں دیتے۔ دین میں اختلاف کی وجہ بھی اکثر فہم اور تعبیر کا فرق ہوتا ہے، نہ کہ بنیادی اصولوں کا انکار۔
قرآن و حدیث نے کہیں یہ نہیں کہا کہ انسان سیکھنے سے رک جائے۔ بلکہ بار بار غور و فکر، تدبر اور سوال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ علم وہی فائدہ مند ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے اور اس کی زندگی کو بہتر بنائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دین کو نہ جاننے کا نقصان صرف آخرت تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیاوی زندگی بھی بے سکونی اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ جب اخلاق، انصاف اور ذمہ داری کا شعور کمزور ہو جائے تو معاشرہ بکھرنے لگتا ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین صرف عبادات تک محدود ہے، حالانکہ دین مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ کیسے سوچے، کیسے بولے، کیسے کمائے اور کیسے خرچ کرے۔ اگر انسان اس رہنمائی سے منہ موڑ لے تو اس کی زندگی محض خواہشات کے تابع ہو جاتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انسان اور جانور میں بنیادی فرق علم اور شعور کا ہے۔ جانور جبلت کے تحت زندگی گزارتا ہے جبکہ انسان کو عقل اور ہدایت دی گئی ہے۔ اگر انسان اس عقل اور ہدایت کو استعمال نہ کرے تو وہ اپنا اصل مقام کھو دیتا ہے۔
اسلام نے انسان کو چوبیس گھنٹے کی زندگی کا تصور دیا ہے، جہاں ہر عمل عبادت بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ یہ تصور صرف اسی وقت سمجھ میں آتا ہے جب انسان دینی علم سے جڑا ہو۔
علم سے دوری انسان کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ پھر وہ ہر بات پر کسی کے فتوے، کسی کے نعرے یا کسی کے جذباتی بیان کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ جبکہ علم انسان کو خود سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص خود ہر مسئلے کا حل نکالے، مگر یہ ضرور ضروری ہے کہ وہ صحیح جگہ سے رہنمائی حاصل کرنا جانتا ہو۔ معتبر علماء سے رجوع کرنا، سوال کرنا اور سمجھنا ہی دانشمندی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں دینی علم کو مشکل، خشک اور غیر ضروری بنا کر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دین انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے اور زندگی کو آسان بنانے کے لیے آیا ہے۔
اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سکون، توازن اور مقصد ہو تو ہمیں دین کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا۔ یہ سمجھ محض جذبات یا روایات سے نہیں بلکہ علم سے آتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بہانوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں کیا معلوم، بلکہ یہ کوشش کریں کہ ہمیں معلوم ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل، وقت اور وسائل دیے ہیں۔ اگر ہم ان سب کے باوجود دین کو نہ سیکھیں تو یہ ہماری کوتاہی ہے، نہ کہ ہدایت کی کمی۔
یہ فیصلہ ہر فرد کو خود کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو علم اور شعور کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے یا صرف بہانوں کے سہارے۔ کیونکہ کل قیامت کے دن ہر انسان نے اکیلے جواب دینا ہے، نہ کوئی عالم اس کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ کوئی عذر کام آئے گا۔
![]()