تحریر: سردار یوسفزئی
نائب صدر پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام اباد

جناب عادل خٹک کا شمار پاکستان کے اُن ممتاز انجینئرز اور کامیاب صنعتی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی قابلیت، مسلسل محنت اور دیانت دارانہ قیادت کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 1952ء میں ضلع نوشہرہ کے معروف گاؤں شیدو میں پیدا ہوئے۔ ایک سادہ مگر باوقار پس منظر سے تعلق رکھنے والے عادل خٹک نے اپنی زندگی کو تعلیم، خدمت اور پیشہ ورانہ وقار کے اصولوں کے تحت استوار کیا۔
ان کی تعلیمی زندگی نہایت شاندار رہی۔ انہوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم ملک کے ممتاز ادارے کیڈٹ کالج حسن ابدال سے حاصل کی، جہاں نظم و ضبط، قیادت اور خود اعتمادی جیسی خوبیاں ان کی شخصیت کا حصہ بنیں۔ بعدازاں انہوں نے انجینئرنگ کالج، جامعہ پشاور سے بی ایس انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے شوق نے انہیں امریکہ پہنچایا، جہاں انہوں نے ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی، ٹیکساس سے ایم ایس انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ تعلیمی سفر ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کی مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔
جناب عادل خٹک صاحب کی عملی زندگی کا بڑا حصہ اٹک آئل گروپ سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے مجموعی طور پر 49 برس تک خدمات انجام دیں۔ یہ ایک غیر معمولی طویل اور باوقار پیشہ ورانہ سفر ہے جو ان کی صلاحیتوں، ادارے سے وابستگی اور اعتماد کی واضح دلیل ہے۔ ان میں سے 20 برس انہوں نے اٹک ریفائنری لمیٹڈ اور اٹک جین لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو کہ کارپوریٹ دنیا میں ایک ریکارڈ ہے
اس حیثیت میں انہوں نے نہ صرف اداروں کو کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ جدید انتظامی اصولوں، شفاف فیصلوں اور ٹیم ورک کو فروغ دیا۔

جناب عادل خٹک اپنی صنعتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ نیشنل کلینر پروڈکشن سنٹر کے سربراہ بھی ہیں، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرتا ہے، اور اٹک سہارا فاؤنڈیشن کی قیادت بھی کر رہے ہیں، جو اردگرد کی پسماندہ آبادیوں کو پیشہ ورانہ تربیت اور فلاحی سہولیات فراہم کرتی ہے۔
وہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون کے حامی ہیں اور اسی سلسلے میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) اور غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ (GIK) کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ہیں، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے کارپوریٹ ایڈوائزری بورڈ سے بھی وابستہ ہیں۔
خٹک صاحب کی قیادت کا امتیاز یہ رہا کہ وہ تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے فیصلوں میں تدبر، تحمل اور دوراندیشی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے نوجوان انجینئرز اور پیشہ ور افراد کی تربیت اور رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
الغرض، عادل خٹک کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ان کا تعلیمی سفر، طویل پیشہ ورانہ وابستگی اور اعلیٰ انتظامی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، علم اور اصول پسندی کے ذریعے نہ صرف ذاتی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ قومی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
جناب عادل خٹک نہ صرف ایک کامیاب انجینئر اور صنعت کار ہیں بلکہ وہ ملکی حالات پر گہری نظر رکھنے والی باشعور شخصیت بھی ہیں۔ وہ پاکستان میں درپیش معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل پر فکرمند رہتے ہیں اور ایک ایسے منصفانہ نظام کے حامی ہیں جہاں قانون کی بالادستی اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا یقین ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کے تمام خطوں میں یکساں ترقی و خوشحالی کو فروغ دیا جائے اور کسی بھی علاقے کو محرومی کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔
عادل خٹک صاحب کی سوچ قومی وحدت، انصاف اور متوازن ترقی کے اصولوں کی عکاس ہے، جو انہیں ایک ذمہ دار اور دردِ دل رکھنے والا پاکستانی ثابت کرتی ہے۔
وہ ایک اچھے شاعر، ادیب اور محقق ہیں جن کی علمی پہچان گہرے مطالعے اور سنجیدہ فکر سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ وہ کم لکھتے ہیں، مگر جو کچھ لکھتے ہیں اس میں فکری پختگی، معنوی گہرائی اور زبان کی نفاست نمایاں ہوتی ہے۔ ان کی تحریروں میں سطحیت کے بجائے تحقیق، شعور اور مقصدیت جھلکتی ہے۔ خوشحال خان خٹک کی فکر و فن سے وہ گہرے طور پر متاثر ہیں، جس کے اثرات ان کے اندازِ بیان، قومی شعور اور خودداری کے عناصر میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر کم ہونے کے باوجود قاری پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے اور انہیں ایک سنجیدہ اور معتبر ادبی آواز بناتی ہے۔
خٹک ایک سیاح بھی ہیں جنہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کی ہے اور وہاں کے معاشروں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع پایا ہے۔ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور سماجی رویّوں کے مشاہدے نے ان کی فکر کو وسعت اور نظر کو گہرائی عطا کی ہے۔ یہ عالمی تجربہ ان کی شخصیت میں برداشت، توازن اور بین الاقوامی شعور پیدا کرتا ہے، جو ان کی تحریروں اور خیالات میں بھی جھلکتا ہے۔ مختلف معاشروں کے مشاہدے نے انہیں تقابل کی صلاحیت دی ہے، جس کے باعث وہ اپنے وطن کی ترقی اور بہتری کے لیے زیادہ بصیرت افروز اور حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی جناب عادل خٹک کو ہمیشہ عزت، وقار اور کامیابی سے نوازے، ان کی قلمی و فکری کاوشوں میں برکت عطا فرمائے اور ان کی سوچ کو قومی یکجہتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے ذریعۂ خیر بنائے۔ آمین۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے