

باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی): ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے مصروف تجارتی مرکز باڑہ بازار میں مینار مسجد کے قریب قائم مختلف فیکٹریوں سے خارج ہونے والے مضر صحت اور زہریلے دھوئیں نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رہائشیوں اور تاجروں کے مطابق فیکٹریوں سے اٹھنے والا گاڑھا دھواں نہ صرف فضا کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ اس کے باعث سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دن بھر بازار میں پھیلنے والی بدبو اور دھوئیں کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور خریداروں کی آمد میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت نقیب آفریدی اور دیگر شہریوں نے الزام لگایا کہ کئی بار متعلقہ اداروں کو تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا گیا، مگر اب تک کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔
علاقہ مکینوں اور تاجروں نے منتخب عوامی نمائندوں، خصوصاً ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس میں طویل اور مسلسل احتجاج بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی صحت اور صاف ماحول کی فراہمی ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
باڑہ بازار میں فیکٹریوں کا زہریلا دھواں، شہریوں کا شدید احتجاج اور فوری کارروائی کا مطالبہباڑہ (خیال مت شاہ آفریدی): ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے مصروف تجارتی مرکز باڑہ بازار میں مینار مسجد کے قریب قائم مختلف فیکٹریوں سے خارج ہونے والے مضر صحت اور زہریلے دھوئیں نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رہائشیوں اور تاجروں کے مطابق فیکٹریوں سے اٹھنے والا گاڑھا دھواں نہ صرف فضا کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ اس کے باعث سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دن بھر بازار میں پھیلنے والی بدبو اور دھوئیں کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور خریداروں کی آمد میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت نقیب آفریدی اور دیگر شہریوں نے الزام لگایا کہ کئی بار متعلقہ اداروں کو تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا گیا، مگر اب تک کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔علاقہ مکینوں اور تاجروں نے منتخب عوامی نمائندوں، خصوصاً ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس میں طویل اور مسلسل احتجاج بھی شامل ہو سکتا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی صحت اور صاف ماحول کی فراہمی ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
![]()