
پاکستان میں ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران تیزی سے جڑیں مضبوط کر رہا ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے اثرات ہر گھر، ہر گلی اور ہر شہر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ بحران کسی وبا، جنگ یا قدرتی آفت کا نہیں بلکہ "خود سے دوائیاں کھانے” کی بڑھتی ہوئی عادت کا ہے، جو معاشرے کو آہستہ آہستہ ایک بڑے طبی المیے کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ہمارے ہاں معمولی سر درد ہو تو فوراً درد کش گولی کھا لی جاتی ہے، گلا خراب ہو تو اینٹی بائیوٹک شروع کر دی جاتی ہے، پیٹ میں تکلیف ہو تو میڈیکل سٹور سے کوئی بھی دوا لے لی جاتی ہے، اور اگر جسم میں کمزوری محسوس ہو تو ڈرپ لگوانا گویا فوری علاج سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا وقت اور پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
چند دہائیاں پہلے لوگ بیماری کی صورت میں معالج سے رجوع کرتے تھے، مگر آج سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، دوستوں کے مشوروں اور میڈیکل سٹورز کی آسان رسائی نے خود علاج کے رجحان کو بے حد بڑھا دیا ہے۔ نتیجتاً لوگ اپنی بیماری کی اصل وجہ جانے بغیر مختلف ادویات استعمال کرتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق روزانہ بڑی تعداد میں ایسے مریض ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جنہوں نے ابتدائی مرحلے میں خود علاج کی کوشش کی ہوتی ہے۔ اکثر مریض یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلے خود دوائیاں استعمال کیں، مگر جب حالت مزید بگڑ گئی تو پھر طبی مدد لینے پر مجبور ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دوا ایک خاص مقصد، مخصوص مقدار اور محدود مدت کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ جب کوئی شخص ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا استعمال کرتا ہے تو وہ اپنی صحت کو ایسے خطرے میں ڈال دیتا ہے جس کے نتائج بعض اوقات ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طاقتور دوا جلد اثر دکھاتی ہے اور اس لیے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق کسی دوا کی طاقت نہیں بلکہ اس کا درست استعمال اہمیت رکھتا ہے۔ غلط دوا فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
خود سے دوائیاں کھانے کے نتیجے میں معدے کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ درد کش ادویات کا بے جا استعمال معدے کے السر، تیزابیت اور معدے سے خون بہنے جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اسی طرح گردے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں، مگر متعدد ادویات کا مسلسل اور غیر ضروری استعمال گردوں کی کارکردگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ بعض مریضوں کو بعد ازاں ڈائیلاسز تک کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔
جگر بھی غیر ضروری ادویات کے استعمال سے محفوظ نہیں رہتا۔ مختلف دواؤں میں موجود کیمیائی اجزاء جگر پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس کے افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے مریض اگر اپنی مرضی سے دواؤں میں تبدیلی کریں یا کسی کے مشورے پر نئی دوائیں شروع کر دیں تو ان کی حالت اچانک خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے۔ ایسی غلطیاں بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔
پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ استعمال نے ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے جسے اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کہا جاتا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جب جراثیم عام ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں اور پھر ان کا علاج انتہائی مشکل ہو جاتا ہے.
طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں معمولی انفیکشنز بھی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اس مسئلے سے شدید متاثر ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بخار، نزلہ یا کھانسی کی صورت میں فوری طور پر اینٹی بائیوٹک استعمال کرنا عام بات ہے، حالانکہ ان میں سے اکثر بیماریاں وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان پر اینٹی بائیوٹکس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ بہت سے مریض ڈاکٹر کی تجویز کردہ اینٹی بائیوٹکس کا مکمل کورس بھی پورا نہیں کرتے۔ دو یا تین دن میں طبیعت بہتر ہوتے ہی دوا چھوڑ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جراثیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
بعد ازاں یہی جراثیم زیادہ طاقتور ہو کر دوبارہ حملہ آور ہوتے ہیں اور اس مرتبہ عام ادویات ان پر اثر نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی انفیکشنز کے علاج کے لیے اب زیادہ مہنگی اور طاقتور دوائیں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔
خود علاج کا ایک اور نقصان بیماری کی اصل تشخیص میں تاخیر ہے۔ بعض اوقات معمولی نظر آنے والی علامات کسی بڑی بیماری کا ابتدائی اشارہ ہوتی ہیں، مگر لوگ وقتی طور پر دوائیں کھا کر اصل مسئلے کو چھپانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
نتیجتاً جب بیماری کی درست تشخیص ہوتی ہے تو وہ کافی حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے علاج مزید پیچیدہ، مہنگا اور طویل ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے طبی مشورے بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد بغیر کسی طبی علم کے مختلف نسخے اور ادویات تجویز کرتے ہیں جن پر عمل کرنا بعض اوقات شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی طرح بعض لوگ رشتہ داروں یا دوستوں کی دوا خود بھی استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہر مریض کی عمر، وزن، بیماری اور طبی تاریخ مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایک شخص کے لیے مفید دوا دوسرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
میڈیکل سٹورز سے بغیر نسخے کے ادویات کی آسان دستیابی نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے۔ بہت سے افراد ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے سیدھا میڈیکل سٹور کا رخ کرتے ہیں اور وہی دوا خرید لیتے ہیں جو انہیں کسی نے تجویز کی ہوتی ہے۔
عوام میں صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بخار پر اینٹی بائیوٹک ضروری نہیں ہوتی، ہر درد پر ڈرپ کی ضرورت نہیں ہوتی اور ہر کمزوری وٹامن کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔
صحت ایک قیمتی نعمت ہے اور اس کے بارے میں فیصلے اندازوں، سنی سنائی باتوں یا انٹرنیٹ کی معلومات کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔ درست تشخیص ہی مؤثر علاج کی بنیاد ہوتی ہے اور یہی بیماری سے نجات کا محفوظ راستہ ہے۔
حکومت، طبی اداروں، میڈیا اور تعلیمی اداروں کو مل کر ایسی آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے جو عوام کو خود علاج کے نقصانات اور مستند طبی مشورے کی اہمیت سے روشناس کر سکیں۔
اگر ہم واقعی ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو بیماریوں سے پہلے غلط علاج کے رجحان کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ بعض اوقات انسان بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط تشخیص، غلط دوا اور غلط علاج کے نتیجے میں اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔
![]()