
خیبر (امان علی شینواری) — ضلع خیبر میں پولیو خاتمے اور روٹین امیونائزیشن پروگرام کے تحت خدمات انجام دینے والے COMNet عملے میں ممکنہ کمی کے فیصلے پر سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری نظرثانی اور عملے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی
ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر سیاسی اتحاد کے صدر مراد حسین آفریدی، عبدالرازق شینواری، حاجی ضرب اللہ (عرف حاجی بابا)، چیئرمین حاجی شیر آفریدی، نازک شاہ، عبدالوهاب اور زرشاہ سمیت دیگر بلدیاتی نمائندوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے کہا کہ ضلع خیبر کی حساس جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر COMNet عملے میں کمی کسی صورت قابل قبول نہیں بلکہ موجودہ حالات میں عملے کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے
مقررین نے کہا کہ ضلع خیبر تورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان سے منسلک ہے اور اسے ہائی رسک علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ تیراہ سے نقل مکانی، سرحدی نقل و حرکت اور تقریباً گیارہ لاکھ سے زائد آبادی کو کور کرنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے. ایسے میں فیلڈ اور کمیونیکیشن عملے میں کمی سے نہ صرف مسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ صحت مہمات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی ہے انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جاری مہم اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کمیونٹی کو قائل کرنے، ویکسین سے انکار کی شرح کم کرنے اور روٹین امیونائزیشن کو مضبوط بنانے میں COMNet عملہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے. ان کے مطابق اگر عملے میں تقریباً 40 فیصد کمی کی گئی تو ویکسین سے انکار کی شرح میں اضافہ اور پولیو وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے. پریس کانفرنس کے شرکاء نے دعویٰ کیا کہ ضلع خیبر 2018 سے پولیو فری ہے اور اس کامیابی میں فیلڈ اور کمیونیکیشن ٹیموں کی مسلسل محنت شامل ہے۔ ان کے بقول ایسے نازک مرحلے پر عملے میں کمی گزشتہ برسوں کی پیش رفت کو متاثر کر سکتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والی بعض متنازعہ خبروں، خصوصاً Jeffrey Epstein سے متعلق فائلز کے لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈا میں اضافہ دیکھا گیا ہے. ان کے مطابق اس صورتحال میں کمیونٹی سطح پر آگاہی فراہم کرنے اور افواہوں کا توڑ کرنے کے لیے COMNet عملے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہی عملہ گھر گھر جا کر عوام کے خدشات دور کرتا اور ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا ہے. پریس کانفرنس کے شرکاء نے ڈپٹی کمشنر خیبر، گورنر خیبر پختونخوا، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC)، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، ڈی جی ہیلتھ، سیکرٹری ہیلتھ اور وفاقی وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ COMNet عملے میں کمی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، موجودہ عملہ برقرار رکھا جائے اور ضلع کی حساسیت کے پیش نظر یونین کونسل سطح پر عملے میں اضافہ کیا جائے.
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر خیبر سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا.
![]()