باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی سے)

باڑہ سیاسی اتحاد کے زیرِ انتظام آفریدی اقوام کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں وادی تیراہ کے متاثرین کی موجودہ صورتحال اور باڑہ اکاخیل میں امن و امان کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے کے شرکاء نے آئندہ ہفتے ایک اور اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں پشاور میں احتجاج کے حوالے سے حتمی ڈیڈ لائن دینے پر غور کیا جائے گا۔

جرگے کے اعلامیے کے مطابق، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 24 رکنی کمیٹی کے ساتھ طے شدہ 35 نکاتی مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ متاثرین کی باعزت واپسی کے لیے ایک جامع اور مؤثر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے، تاکہ وہ بروقت اپنی زمینوں پر کاشتکاری شروع کر سکیں۔

مزید برآں، جاری ترقیاتی منصوبوں سے متاثرہ زمینوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے اور نئی بھرتیوں میں مقامی افراد کو ترجیح دینے کی بھی سفارش کی گئی۔ اعلامیے میں تیراہ کے آئی ڈی پیز کو فوری طور پر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی ادائیگی اور 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

باڑہ اکاخیل میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مؤثر اور فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی گئی۔ اعلامیے میں باڑہ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں، قومی کونسل، طلبہ تنظیموں، ڈاکٹرز یونین، تاجر برادری اور دیگر اتحادی گروپوں سے 2 مئی بروز ہفتہ منعقد ہونے والے جرگے میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق، 2 مئی کے جرگے میں باڑہ میں جاری بدامنی اور وادی تیراہ کے مسائل کے تناظر میں پشاور میں ایک بھرپور احتجاج کو حتمی شکل دی جائے گی، جبکہ احتجاج کے مقام کا متفقہ طور پر تعین بھی کیا جائے گا، جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول اور حتمی ہوگا۔ اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن آئینی اور پُرامن راستہ اختیار کریں گے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے