ترکی سے مانچسٹر جانے والی ایک بین الاقوامی پرواز اس وقت شدید خوف اور افراتفری کا شکار ہو گئی جب فضا میں ہی مسافروں کے درمیان ایک بڑا اور پرتشدد جھگڑا شروع ہو گیا۔ یہ واقعہ محض ایک معمولی تکرار نہیں تھا بلکہ چند ہی لمحوں میں ایسا ہولناک منظر بن گیا جس نے پورے طیارے کو دہلا کر رکھ دیا اور مسافروں کی سلامتی کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا۔

یہ پرواز برطانوی فضائی کمپنی Jet2 کی تھی، جو ترکی کے ایک سیاحتی شہر سے برطانیہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پرواز کے آغاز میں ماحول بالکل معمول کے مطابق تھا، مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھے گفتگو اور آرام میں مصروف تھے اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر چند گھنٹوں بعد ایک خوفناک تجربے میں بدل جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تنازع کی ابتدا ایک نہایت معمولی بات سے ہوئی، جب ایک مسافر نے اونچی آواز میں موسیقی بجانے پر اعتراض کیا۔ یہ اعتراض جلد ہی تلخ جملوں میں بدل گیا اور بات چیت کا لہجہ اس قدر بگڑ گیا کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر چیخنے لگے۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ایک مسافر نے غصے میں آ کر دوسرے کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ یہ حرکت جلتی پر تیل کا کام ثابت ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی شروع ہو گئی، جس نے پورے کیبن میں خوف پھیلا دیا۔

قریبی مسافروں کے مطابق دونوں افراد نشے کی حالت میں تھے اور اس سے قبل بھی وہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ بتایا گیا کہ وہ نہ صرف شور شرابا کر رہے تھے بلکہ نسل پرستانہ جملے بھی ادا کر رہے تھے، جس سے اردگرد بیٹھے مسافر شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئے۔

یہ معاملہ صرف مسافروں کے درمیان جھگڑے تک محدود نہ رہا بلکہ دونوں افراد نے جہاز کے عملے کے ساتھ بھی بدسلوکی کی۔ خاص طور پر سگریٹ نوشی کے معاملے پر عملے کی ہدایات ماننے سے انکار کیا گیا، جس پر عملے نے انہیں بارہا سمجھانے کی کوشش کی۔

جوں جوں جھگڑا شدت اختیار کرتا گیا، طیارے کے اندر موجود بچوں، بزرگوں اور خصوصی ضروریات کے حامل افراد میں خوف بڑھتا چلا گیا۔ کئی والدین اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر بیٹھ گئے تاکہ انہیں کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ اچانک چیخ و پکار اور شور اس قدر بڑھ گیا کہ کچھ مسافروں نے اپنی نشستیں چھوڑ کر دوسری جانب جانے کی کوشش کی۔ اسی دوران خون کے دھبے نشستوں پر نظر آئے اور فرش پر ٹوٹے ہوئے دانت پڑے دیکھ کر لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔

عملے نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم جھگڑے کی سنگینی اور مسلسل خطرے کے پیش نظر پائلٹ کو فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑا۔

پائلٹ نے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے طیارے کا رخ تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کا مقصد صرف یہ تھا کہ صورتحال مزید بگڑنے سے پہلے زمین پر اتر کر سیکیورٹی کی مدد حاصل کی جا سکے۔

بالآخر طیارہ بیلجیم کے دارالحکومت Brussels کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں مقامی حکام اور پولیس کو پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا تھا تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔

جہاز کے لینڈ کرتے ہی پولیس اہلکار طیارے میں داخل ہوئے اور صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔ دونوں جھگڑالو افراد کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد کیبن میں ایک حد تک سکون بحال ہوا۔

پائلٹ نے بعد ازاں مسافروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے تیس سالہ فضائی کیریئر میں انہیں بہت کم ہنگامی لینڈنگز کرنا پڑیں، مگر اس نوعیت کی پرتشدد صورتحال انہوں نے شاذ و نادر ہی دیکھی ہے۔

مسافروں میں سے ایک نے بتایا کہ اگرچہ وہ لمحے انتہائی خوفناک تھے، لیکن کچھ افراد نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نسل پرستانہ رویے کے خلاف آواز بلند کی، جو اس مشکل وقت میں انسانیت کی ایک روشن مثال تھی۔

اسی مسافر نے ایئرلائن کے عملے کی بھی بھرپور تعریف کی، جنہوں نے شدید دباؤ، خوف اور ہنگامے کے باوجود مکمل تحمل، سکون اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

متاثرہ مسافروں کے مطابق کئی لوگ اس واقعے کے بعد ذہنی طور پر شدید صدمے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ خاص طور پر وہ افراد جو پہلی بار فضائی سفر کر رہے تھے، ان کے لیے یہ تجربہ طویل عرصے تک یاد رہنے والا تھا۔

اس پرواز کی اصل منزل برطانیہ کا شہر Manchester تھا، مگر اس غیر متوقع اور افسوسناک واقعے نے مسافروں کے سفر کو نہایت طویل اور اعصاب شکن بنا دیا۔

بعد ازاں ایئرلائن کی جانب سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا گیا جس میں واقعے کی مکمل تصدیق کی گئی اور واضح کیا گیا کہ مسافروں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ملوث دونوں افراد پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی ہے اور وہ مستقبل میں کبھی بھی اس ایئرلائن کے ساتھ سفر کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ایئرلائن نے یہ بھی اعلان کیا کہ پرواز کا رخ موڑنے سے ہونے والے تمام اخراجات اور نقصانات کی وصولی کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
انتظامیہ کے مطابق فضائی سفر میں نظم و ضبط، احترام اور ذمہ داری نہایت ضروری ہے، اور کسی بھی قسم کے تشدد یا نفرت انگیز رویے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شراب نوشی اور جارحانہ رویہ اکثر ایسے خطرناک واقعات کی بنیاد بنتا ہے، جس سے نہ صرف چند افراد بلکہ پورے طیارے میں موجود درجنوں جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

یہ واقعہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ فضائی سفر کے دوران ایک فرد کا غیر ذمہ دارانہ عمل کس طرح سیکڑوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے، اور اس سے بچاؤ کے لیے مسافروں اور ایئرلائنز دونوں کو مزید محتاط اور ذمہ دار کردار ادا کرنا ہوگا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے