امجد ہادی یوسفزئی

خیبرپختونخوا میں پانی کی قلت اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنجیدہ سماجی، معاشی اور انتظامی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک جانب دریاؤں، چشموں اور زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور دوسری جانب روزمرہ زندگی میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ گاڑیوں کی صفائی ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں روزانہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لیٹر قیمتی تازہ پانی ضائع ہو جاتا ہے، حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اسی مقصد کے لیے استعمال شدہ پانی کو ری سائیکل کر کے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں اس جدید، سائنسی اور ماحول دوست طریقۂ کار کو نہ تو حکومتی سطح پر سنجیدگی سے اپنایا گیا ہے اور نہ ہی عوامی شعور اس حد تک بیدار ہو سکا ہے کہ وہ اس ضیاع کو ایک سنگین مسئلہ سمجھ سکیں۔

اگر حکومتی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ صوبے میں گاڑیوں کے واشنگ اسٹیشنز کے لیے پانی کے استعمال سے متعلق کوئی واضح، سخت اور مؤثر پالیسی موجود نہیں۔ نہ ری سائیکل پانی کے استعمال کو لازم قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اس بات کی نگرانی کی جاتی ہے کہ کون سے کار واش مراکز تازہ پانی استعمال کر رہے ہیں اور کون سے متبادل ذرائع اپنائے ہوئے ہیں۔ ماحولیات، بلدیات اور آبپاشی سے متعلق ادارے اکثر اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کے تحفظ کا معاملہ عملی اقدامات کے بجائے محض بیانات اور فائلوں تک محدود رہ جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک، جہاں پانی کے وسائل نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود اسراف کی اجازت نہیں، وہاں قوانین کے ذریعے کار واش مراکز کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ استعمال شدہ پانی کو صاف کر کے دوبارہ استعمال کریں، جبکہ ہمارے ہاں شدید قلت کے باوجود خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

عوامی سطح پر بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ عام شہری گاڑی دھلواتے وقت یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ استعمال ہونے والا پانی کہاں سے آ رہا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔ زیادہ تر افراد کے نزدیک صاف پانی کا مطلب صرف یہی ہے کہ نل کھلا ہو اور پانی بہتا رہے، چاہے وہ پینے کے قابل ہو یا نہیں۔ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کر کے استعمال کرنے کا تصور آج بھی بہت سے لوگوں کو غیر معیاری یا ناقابلِ قبول محسوس ہوتا ہے، حالانکہ جدید فلٹریشن سسٹمز کے ذریعے یہی پانی گاڑیوں کی صفائی سمیت کئی دیگر غیر پینے کے مقاصد کے لیے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ دراصل عوامی آگاہی کی کمی اور حکومتی سطح پر مؤثر شعور بیداری مہمات کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

تکنیکی اعتبار سے ری سائیکل پانی کا نظام کوئی پیچیدہ یا ناقابلِ عمل منصوبہ نہیں۔ گاڑیوں کی صفائی میں استعمال ہونے والا پانی ٹینکیوں میں جمع کر کے مختلف فلٹرز، سیڈیمینٹیشن ٹینکس، کاربن فلٹرز اور بعض صورتوں میں الٹرا وائلٹ نظام سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہی نظام برسوں سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے، جس سے نہ صرف تازہ پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ کار واش مالکان کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ اس کے باوجود خیبرپختونخوا میں اس نظام کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ابتدائی لاگت، تکنیکی مہارت کی کمی اور حکومتی عدم دلچسپی ہے۔ اگر حکومت واقعی پانی کے بحران کو سنجیدگی سے لیتی ہے تو یہ عذر قابلِ قبول نہیں کہ ری سائیکل نظام مہنگا ہے، کیونکہ پانی کی قلت کی قیمت اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔

اس سنگین مسئلے کا حل محض تنقید میں نہیں بلکہ ٹھوس اور عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ واضح قانون سازی کے ذریعے تمام نئے اور موجودہ گاڑیوں کے واشنگ اسٹیشنز کو مرحلہ وار ری سائیکل پانی کے نظام پر منتقل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبسڈی، آسان قرضوں اور ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات کے ذریعے کار واش مالکان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اس نظام کو اپنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ نگرانی کا ایک مؤثر اور شفاف نظام قائم کیا جائے تاکہ قوانین محض کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نافذ بھی ہوں۔ عوامی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے یہ باور کرایا جائے کہ گاڑیوں کی صفائی میں ری سائیکل پانی کا استعمال نہ صرف محفوظ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے ذخائر بچانے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پانی کا تحفظ کسی ایک ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ اگر آج ہم گاڑیوں کی صفائی جیسے معمولی کام کے لیے قیمتی تازہ پانی ضائع کرتے رہے تو کل یہی پانی ہماری سب سے بڑی ضرورت بن جائے گا۔ خیبرپختونخوا کو اگر واقعی ایک پائیدار، ماحول دوست اور ذمہ دار صوبہ بنانا ہے تو گاڑیوں کی صفائی میں ری سائیکل پانی کے استعمال کو ایک اختیار نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا۔ یہی سوچ ہمیں پانی کے بحران سے نکال سکتی ہے اور یہی اقدام ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے