
سردار یوسفزئی سے
اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کی ماہانہ نشست منعقد ہوئی۔
تقریب کی صدارت پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے چیئرمین سید محمود احمد نے کی، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک اور نظامت کے فرائض تنظیم کے سیکرٹری جنرل سردار یوسفزئی نے انجام دیے۔
اس موقع پر معروف ادیب، شاعر اور دانشور ادریس اثر احمدزئی اور انسانی حقوق تنظیم کی چيٸرپرسن فوزیہ خانم بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔
تقریب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
پہلے حصے میں پشتو کے نامور ادیب، شاعر، فلسفی اور مصور غنی خان کے فن اور شخصیت پر ادریس اثر احمدزئی نے جامع اور معلوماتی ليکچر ديا، جبکہ م ر شفق نے غنی خان پر لکھا گیا ایک شاہکار نظم پیش کی۔
غنی خان پشتو ادب کی وہ ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے شاعری، فلسفہ، مصوری اور فکری اظہار کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک آزاد فکر فلسفی، حساس فنکار اور جرات مند انسان بھی تھے۔ غنی خان نے اپنی تخلیقات کے ذریعے زندگی، انسان، حسن، محبت، آزادی اور جبر جیسے موضوعات کو نئے زاویوں سے دیکھا اور بیان کیا۔
غنی خان کی شاعری روایت کی پابند نہیں بلکہ بغاوت، سوال اور جستجو کا نام ہے۔ وہ معاشرتی جمود، مذہبی تنگ نظری اور سیاسی منافقت کے سخت ناقد تھے۔ ان کی شاعری میں طنز اور مزاح کی ایک گہری تہہ موجود ہے جو قاری کو مسکرانے کے ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ وہ انسان کو اس کی اصل پہچان، یعنی آزاد اور خوددار مخلوق کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔
فلسفے کے میدان میں غنی خان کا انداز نہایت انفرادی ہے۔ وہ مشرقی روحانیت اور مغربی عقلیت کے امتزاج کی علامت نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں تصوف رسمی نہیں بلکہ فکری اور وجدانی ہے۔ وہ انسان کو خوف، لالچ اور جبر سے آزاد دیکھنے کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک اصل عبادت حسن سے محبت اور انسانیت کی خدمت ہے۔
غنی خان کی شخصیت میں جرات، سادگی اور خودداری نمایاں تھی۔ وہ اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، چاہے اس کی قیمت قید و بند ہی کیوں نہ ہو۔ سیاسی طور پر وہ آزادیٔ فکر اور قومی خودی کے علمبردار تھے، مگر وہ اندھی تقلید یا جذباتی نعروں کے قائل نہیں تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریر میں گہری بصیرت اور فکری شفافیت جھلکتی ہے۔
بطور مصور بھی غنی خان ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی پینٹنگز میں علامت، اور فطری حسن کی جھلک نظر آتی ہے۔ رنگوں کے ذریعے وہ وہی بات کہتے ہیں جو شاعری میں لفظوں کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ ان کے فن میں انسان اور فطرت کا رشتہ نہایت گہرا اور معنی خیز ہے۔
مختصراً، غنی خان ایک ایسا فکری اور تخلیقی شعور ہیں جو وقت اور جغرافیے کی قید سے آزاد ہے۔ ان کا فن انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور خود کو پہچاننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پشتو ادب غنی خان کے بغیر ادھورا اور نامکمل محسوس ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے عہد کے نمائندہ تھے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار ہیں۔
تقريب کے دوسرے حصے میں آزاد مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں سردار یوسفزئی، اسد خٹک، حیات سواتی، خان کریم آفریدی، عزیز واحد، عزیز خٹک، وقار علی شاہ دریاب، محمد ایاز خان، انعام اورکزی، مالک اشتر عقاب اور گلاب دلسوز نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔
مذکورہ شعرا کے علاوہ لطف اللہ، انفال خان، سہیل خان اور احسان احمدزئی نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر ادریس اثر احمدزئی کو پی ایس ایف ہاسٹل سٹى کے نوجوانوں کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔
تقریب کے اختتام پر صدرِ محفل سید محمود احمد صاحب نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور غنی خان کے فکر و فن پر ادریس اثر احمدزئی کے لیکچر کو سراہا۔
![]()