تحریر: سردار یوسفزئی

قوموں کی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو عمر میں چھوٹے مگر کردار میں بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کرداروں میں ایک روشن اور تابندہ نام شہید اعتزاز حسن کا ہے، جس نے کم عمری میں وہ عظیم کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ شہید اعتزاز حسن بنگش ہنگو کی سرزمین کا وہ بہادر فرزند تھا جس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سینکڑوں معصوم جانوں کو بچا لیا اور قربانی، جرات اور حب الوطنی کی ایک لازوال مثال قائم کر دی۔
شہید اعتزاز حسن کی قربانی محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک شعوری فیصلہ تھا — ایسا فیصلہ جس میں خوف کے بجائے حوصلہ، خود غرضی کے بجائے ایثار اور زندگی کے بجائے قوم کے مستقبل کو ترجیح دی گئی۔ اس کم سن طالب علم نے ثابت کیا کہ بہادری عمر کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ دلوں میں بستی ہے۔ اس کی شہادت نے پوری قوم کو یہ پیغام دیا کہ ہمارے بچے بھی وطن کی حفاظت کے لیے فولادی عزم رکھتے ہیں۔
اعتزاز حسن شہید کی شہادت پاکستان کی تاریخ میں جرأت، ایثار اور قومی غیرت کی ایک درخشاں مثال ہے۔
6 جنوری 2014ء بروز جمعرات صبح کو ضلع ہنگو کے گاوں ابراہیم زئی میں ایک کم سن طالب علم اعتزاز بنگش نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر سینکڑوں بچوں، اساتذہ اور شہریوں کی جانیں بچائیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی قربانی نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا لمحہ تھا۔
شہید اعتزاز حسن بنگش نے اپنی جان پر کھیل کر خودکش حملہ آور کو اسکول میں داخل ہونے سے روکا۔ اس عمل نے ثابت کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مزاحمت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، شعور اور بے خوفی سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک نوعمر طالب علم کا یہ کردار اس بات کی علامت بن گیا کہ حب الوطنی عمر کی محتاج نہیں۔
ان کی شہادت نے قوم کو یہ پیغام دیا کہ تعلیمی ادارے امن کے قلعے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اعتزاز حسن کی قربانی نے اساتذہ، طلبہ اور والدین کے دلوں میں تحفظِ تعلیم اور تحفظِ زندگی کے شعور کو مضبوط کیا۔

اعتزاز حسن شہید کی شہادت نے نوجوان نسل کے لیے کردار، حوصلے اور قربانی کا معیار قائم کیا۔ وہ آج بھی ایک زندہ مثال ہیں کہ ایک فرد کا درست وقت پر کیا گیا فیصلہ تاریخ کا رُخ موڑ سکتا ہے۔
یہ شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھ کر ہی مضبوط بنتی ہیں، اور اعتزاز حسن شہید ہمیشہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر رہیگا
ان کی شہادت نے قوم کو یہ پیغام دیا کہ تعلیمی ادارے امن کے قلعے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اعتزاز حسن کی قربانی نے اساتذہ، طلبہ اور والدین کے دلوں میں تحفظِ تعلیم اور تحفظِ زندگی کے شعور کو مضبوط کیا۔
اعتزاز حسن شہید کی شہادت نے نوجوان نسل کے لیے کردار، حوصلے اور قربانی کا معیار قائم کیا۔ وہ آج بھی ایک زندہ مثال ہیں کہ ایک فرد کا درست وقت پر کیا گیا فیصلہ تاریخ کا رُخ موڑ سکتا ہے

اب ذرا ایک نظر ڈالتے ھیں کہ دنیا شہید اعتزاز بنگش کی قربانی کو کسطرح دیکھتی ھے ۔
دنیا کی نظر میں شہید اعتزاز بنگش کی قربانی انسانی عظمت، اخلاقی جرأت اور امن کی عالمی علامت ہے۔ وہ آج بھی دنیا کے نوجوانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی بچانے کے لیے دی گئی جان کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
شہید اعتزاز حسن بنگش (طالبِ علم، ہنگو) کی قربانی محض ایک مقامی واقعہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی سطح پر بہادری، انسانیت اور امن کی علامت بن کر ابھری۔
عالمی میڈیا اور رائے عامہ
بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اعتزاز بنگش کو “The boy who stopped a suicide bomber” کے عنوان سے خراجِ تحسین پیش کیا۔
دنیا بھر کے کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں نے اسے انتہا پسندی کے مقابل انسانی ضمیر کی فتح قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر اس کی بہادری کی داستان سرحدوں سے ماورا ہو کر پھیلی۔
بین الاقوامی اداروں اور شخصیات کا اعتراف
مختلف عالمی امن فورمز اور تعلیمی حلقوں میں اعتزاز بنگش کی قربانی کو نوجوانوں کے کردار کی روشن مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس کی شہادت کو یہ پیغام سمجھا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، کردار سے بھی لڑی جاتی ہے۔
علامتی اور اخلاقی اہمیت
اعتزاز بنگش دنیا کے لیے اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ:
ایک فرد بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے
تعلیم گاہیں نفرت نہیں، زندگی اور امید کی جگہیں ہیں
دہشت گردی کے سامنے کھڑا ہونا عمر یا طاقت کا محتاج نہیں
پاکستان کا مثبت تشخص
عالمی سطح پر اس قربانی نے پاکستان کا وہ چہرہ نمایاں کیا جو امن پسند قربانی دینے والا
انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ جانے والا ہے۔
شہید اعتزاز حسن کی شہادت پر خاندان کے تاثرات کیا ھیں ؟ تو شہید اعتزاز حسن بنگش کی قربانی نے نہ صرف پاکستان بلکہ اس کے خاندان کو بھی گہرے صدمے اور فخر دونوں کے جذبات سے دوچار کیا۔ اہل خانہ نے اپنی بیٹے کی شہادت پر اپنے جذبات کچھ یوں بیان کیے:
شہید اعتزاز کے والد نے کہا:
"ہم نے اپنا بیٹا کھو دیا، لیکن اس نے سینکڑوں بچوں کی جان بچا کر ہماری آنکھوں میں فخر کا تاج سجا دیا۔”
والدہ نے آنسو بھرتے ہوئے کہا:
"اعتزاز ہمارا بیٹا تھا، لیکن وہ پوری قوم کا ہیرو بھی بن گیا۔ ہم اس پر نہایت فخر محسوس کرتے ہیں۔
بہنوں اور اکلوتے بھائی مجتبی حسن بنگش نے کہا:
"ہم نے بھائی کھو دیا، مگر اس نے زندگی اور انسانیت کی قیمت ہمیں دکھا دی۔”
رشتہ داروں نے اعتزاز کی بہادری کو فیملی کا سب سے بڑا فخر قرار دیا اور کہا کہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
خاندان نے قوم کو پیغام دیا کہ:
شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی
اعتزاز کی قربانی نے دہشت گردی کے خلاف عزم کو مضبوط کیا ۔
ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو نیکی، بہادری اور قربانی کی تعلیم دیں
شہید اعتزاز حسن کی شہادت پر خاندان کا غم گہرا لیکن فخر بھی بے مثال تھا۔ انہوں نے اپنی نجی نقصان کے باوجود قوم کے لیے قربانی دینے والے بیٹے کی عزت اور اس کی خدمات کو اعلیٰ درجے کا فخر اور مثال قرار دیا۔

شہید اعتزاز حسن بنگش کی عظیم قربانی نے پورے ملک کے اہلِ قلم، بالخصوص شعراء کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس کم سن طالب علم کی جرات اور بے مثال قربانی نے اردو اور پشتو ادب میں ایک نئے جذبے کو جنم دیا۔ شعراء نے اعتزاز حسن کو محض ایک طالب علم نہیں بلکہ قوم کا محافظ، مستقبل کا نگہبان اور جرات کی علامت قرار دیا۔
بہت سے شعراء کے نزدیک اعتزاز حسن کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بہادری عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ ان کے اشعار میں اعتزاز حسن کو “ننھا مجاہد”، “زندہ ضمیر قوم کی آواز” اور “معصوم مگر فولادی عزم رکھنے والا ہیرو” کہا گیا۔ شعراء نے اس امر پر زور دیا کہ اعتزاز حسن نے اپنے عمل سے شہادت کے مفہوم کو نئی معنویت عطا کی۔
ادبی حلقوں میں یہ رائے عام ہے کہ شہید اعتزاز حسن بنگش کی قربانی نے شاعری کو محض جذباتی اظہار سے نکال کر قومی شعور سے جوڑ دیا۔ کئی نظموں اور اشعار میں اس کے کردار کو اندھیروں میں جلنے والی شمع، دہشت کے مقابل حوصلے کی دیوار اور زندگی پر قربانی کو ترجیح دینے والی سوچ کے طور پر پیش کیا گیا۔
شعراء نے اپنے تاثرات میں یہ پیغام بھی دیا کہ شہید اعتزاز حسن جیسے کردار قوموں کی روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان کی شہادت نے قلم کاروں کو یہ احساس دلایا کہ اصل شاعری وہی ہے جو قوم کو بیدار کرے، ضمیر کو جھنجھوڑے اور نئی نسل کو حق اور باطل میں تمیز سکھائے۔
یقیناً شہید اعتزاز حسن کی قربانی ادبی دنیا میں بھی ہمیشہ زندہ رہے گی، اور شعراء کے یہ تاثرات اس امر کا ثبوت ہیں کہ شہداء صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ ادب، فکر اور شعور میں ہمیشہ سانس لیتے رہتے ہیں۔

ملک بھر کے شعراء کرام نے ننھے شہید کے شان میں قصیدے لکھے جن میں چند ایک پیش خدمت ھیں

نظم ”غنچہ” اعتزاز شہید کے نام،،،فرخندہ شمیم
ہنگو کی وادیوں میں
نہتے ہوئے چمن سے
جب سبز اوڑھنی نے
اک نودمیدہ غنچہ
آغوش میں اتارا
باغِ ارم میں تب بھی آواز آ رہی تھی
دیکھو ذرا فرشتو!
نیچے زمین کے اوپر
ننھا سا ایک مجاہد!
خاکِ وطن پر قرباں
ہونے کو بے طرح ہے
ماتھے پہ ضُو فشانی
خلعت پہنی کھڑا ہے
چھوٹا سا اک سپاہی
دہشت کے سامنے ہے
اور آگ کے دھوئیں میں
سینہ جلا رہا ہے
خوشبو بچا رہا ہے
دیکھو فلک کے باسی!
خاکِ وطن پہ چمکا
جو آسمان تارا
قدرت نے اس کا رتبہ
کچھ اور بھی بڑھایا
جنت میں اس کو حاصل
پیغمبروں کا سایہ!!!

منزہ سحر لاھور: اعتزاز شھید کے نام🌺
ہے عظمتوں کا کُھلا سمندر
وہ جرّاتوں کا مثالی پیکر

رکھی جو مُٹھی میں جان اُس نے
بچائی اپنوں کی آن اُس نے

وہ کام کچھ ایسا کر گیا ہے
کبھی نہ کہنا کہ مر گیا ہے

وہ اپنی ماں کا دُلارا بیٹا
شہید ہے وہ ہمارا بیٹا

ہمیں محبت سکھا گیا ہے
وہ کتنی ہمت دکھا گیا ہے

لہُو میں ڈُوبے ہوئے وہ پیکر
دُھلے ہیں اشکوں کے سارے منظر

بچا لیں اس نے ردائیں کتنی
سمیٹ لی ہیں دعائیں کتنی

اے میرے مولا کرم تُو کر دے
تُو ایسے بیٹوں سے دنیا بھر دے

جو غیرتوں سے لدے ہوئے ہوں
بہادری سے سجے ہوئے ہوں

میں جو بھی لکھوں بہت ہی کم ہے
کہ اسکی اُلفت میں آنکھ نم ہے

یہ لفظ میرے مری دعائیں
ہیں نام اسکے مری وفائیں

سحر ہے دنیا میں نام اس کا
نہ بھول پائیں گے کام اس کا

اعتزاز کے لیے ہدیہ سخن،،حمیدہ شاہین لاہور
وطن کے بیٹے تم ایک لمحے کو اپنے مٹھی میں قید کرکے امر ہوئے
اٹل ارادے کا ایک لمحہ
عظیم ایثار کا مقدس عظیم لمحہ
وہ فیصلے کا حسین عالی وقار لمحہ
جسے جھپٹ کر
تم اس کے اندر کی بربریت کو ختم کرنے میں خود کو بھولے
تم اپنے خوابوں کو
اپنے ماں باپ کی امنگوں کو بھول کر
ایک خون آشام بھیڑیے سے الجھ گئے تھے
عظیم بیٹے
تمہاری ہمت‘ تمہاری جرات بیان کرنے کو لفظ کم ہیں
لغات کا سر جھکا ہوا ہے
تمام جذبات دم بخود ہیں
یہی ذہانت ‘ یہی شجاعت
تمام امت کو ہوو دیعت
تو سب درندوں کو جنگلوں میں دھکیل کر ہم
سکون کے‘ امن وآشتی کے
نئے جہاں کی فضا بنائیں
اسے محبت کے تازہ پھولوں سے ہم سجائیں

پھیلے یہ نور،،(اعتزاز شہید کے نام) علی کمیل قزلباش

اعزاز‘ اعتزاز وطن کا ہے سرخرو
ملت کی آب و تاب و ملت کی آبرو
نو عمر شہادت کی بلندی کو پا گیا
قاسم کا پیرو کار اور اکبر کی جستجو
کرب و بلا معرکہ ہر دور میں رہا
جس نے حسینی راہ لی‘ ہو گا وہ سرخرو
اے اعتزاز‘ تجھ پے سلام اہل وطن کا
دشمن کو خجل کر گیاتیرا جواں لہو
اس عشق کی معراج عطا کر میرے خدا
پہلے یہ نور شہر شہر اور کو بہ کو
میدان حق میں جو بھی ہو ثابت قدم کمیل
اس کا خدا رسول بھی ہے اس کے ”ھو“

”اعتزاز کو سلام“ …. جیا قریشی

چلے تھے جن پے وہ راہیں سلام کہتی ہیں
تمہارا بستہ کتابیں سلام کہتی ہیں
قلب درد جدائی سے بے قرار ان کا
نڈھال دکھ سے ہیں بہنیں سلام کہتی ہیں
بہت ہی ناز سے جنہوں نے تم کو تھا پالا
وہ ہاتھ اور وہ باہیں سلام کہتی ہیں
جو چومتی تھی تمہارا صبح سے چہرے کو
وہی چاند کی کرنیں سلام کہتی ہیں
تمہارے دم سے ہی تاریخ تابناک ہو گی
دکھی چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
خدا کرے کہ اندھیرے میں بہت دیر چمکے
جو تیرگی میں ضیائیں سلام کہتی ہیں
خدا کرے کہ یہ قربانیاں ضائع نہ ہوں
تمہیں سبھی کی دعائیں سلام کہتی ہیں
کہاں پے کھو گئی صبح جمال میری جیا
یہ بین کرتی ہوائیں سلام کہتی ہیں

شہید اعتزاز ،،، آیاز الدین آرزومند

تب میں اپنی قدر کا احساس تجھے دلاوں گا
جب شہید ہو جاوں جب میں شہید ہو جاوں گا
دیکھا میں نے سوکھے پتلے کھڑے ہیں
میرے خون کے پیاسے چھوٹے بڑے ہیں
وطن کے مُرجھائے ہوئے پھولوں کو پلاوں گا
جب شہید ہو جاوں گا جب میں شہید ہو جاوں گا
پھر بھی اگر کڑوی کڑوی کچی ہیں
سُنو میری باتیں اگر اچھی ہیں
عمل کرو اِن پر اگر سچی ہیں
نہ میں پھر چلاوں گانہ ہی میں پھربتاوں گا
جب شہید ہوجاوں گاجب میں شہید ہوجاوں گا
نہ مجھے دولت نہ پھر دنیا چاہیے
نہ کسی کی ہنسی نہ ادا چاہیے
مجھے اگر چاہیے تو دعا چاہیے
تیری ہر دعا پہ میں سکون خوشی مناوں گا
جب شہید ہو جاوں گاجب میں شہید ہو جاوں گا
آو اگر تو نے مجھے دیکھنا ہے
لکھو جو بھی میری یاد میں لکھنا ہے
بیٹھو ساتھ ہی بیٹھو اگر بیٹھنا ہے
آوآرزومند میں تجھے چہرہ بھی دکھاوں گا
جب شہید ہو جاوں گا‘ جب میں شہید ہو جاوں گا

شهيد اعتزاز کے نام
سائل بٹ ‘ حسن ابدال
مہرباں تجھ پہ تیرا خدا ہو گیا
تو شہیدوں کی صف میں کھڑا ہو گیا
لٹنے والی تھیں خوشیاں سبھی ماوں کی
تیرے دم سے ہی ان کا بھلا ہو گیا
کام ایسا کیا ہے کہ تو اعتزاز
اپنے رتبے میں ہم سے بڑا ہو گیا
نازل ہے تجھ پہ ہم کو اے مردِ جواں
حرمتِ سرزمیں پہ فدا ہو گیا
لکھ دیا ہے قصیدہ پہ سائل مگر
رنج ہے کہ تو ہم سے جدا ہو گیا

اعتزاز شہید __ قدسیہ ظہور
ماں کی آنکھوں میں نئے خواب جگانے والا
ٰخاک میں خاک ہوا شمع جلانے والا
سچ کا کردار نہیں دنیا سے مٹنے والا
حوصلہ دے گیا جان لٹانے والا
خودکشی کرکے وہ دنیا سے چلا گیا
کتنا ملعون ہے یوں خود کو مٹانے والا
مجھکو جینا ہے اندھیروں کو مسخر کرکے
ہے کوئی سوئی ہوئی قوم جگانے والا
ماں کے آنسو ہیں کہ پلکوں پرٹہرتے ہی نہیں
آج خاموش کیوں ہے ماں کو منانے والا
علم کے نور سے روشن ہے جہاں میں قدسی
خونِ دل دے کے چراغوں کو جلانے والا

اعتزا شہید….شعیب نوید خان
ہم کو کیوں چھوڑ گیا ہنسنے ہنسانے والا
لوٹ کے آئے گا کیا ناز دکھانے والا
کیوں یہ دل ہلکی سی آہٹ پہ دہل جاتا ہے
خوف کے سائے میں یہ کون ہے آنے والا
کوئی آندھی ہے چمن میں کہ خزاں ٹہری ہے
لاوں کیسے میں کوئی باغ سجانے والا
سو گئے پھول سبھی اوڑھ کے مٹی کا کفن
ہاں مگر کوئی نہ تھا لوری سنانے والا
کون کہتا ہے شہیدوں کی کمی ہے یاں پر
لاو تو کوئی شہیدوں کو اٹھانے والا
کیسی بارش ہے جو آنکھوں نہیں تھمتی ہے
جانے کس دیس گیا مجھے کو رُلانے والا
آج کیوں خواب نگاہوں سے جدا ہوتے ہیں
کھو گیا جانے کہاں خوب دکھانے والا
تتلیاں جگنو سبھی یاد کریں گے برسوں
جا چکا رنگوں کے سب کھیل کھلانے والا
اس کی تصویر نگاہوں میں بسی ہے اب تک
شوخ آنکھوں سے مری شام سجانے والا
کس سے فریاد کریں کس سے کہیں یہ جا کر
راہ میں چھوڑ گیا ساتھ نبھانے والا
کیسے ظالم ہیں جو پھولوں کو مسل دیتے ہیں
کیا نہیں کوئی شعیب ان کو مٹانے والا

اعتزاز شهيد کے نام
لیفٹیننٹ عتیق الرحمان کہوٹہ‘

تصور میں لے کر حرم چپکے چپکے
چلے آئے منظر پہ ہم چپکے چپکے
جو ایماں ہوں گے ہمالہ کی مانند
تو ابھرے گی خیرالامم چپکے چپکے
جو ہمت کریں اعتزاز حسن سی
تو دھرتی بنے گی ارم چپکے چپکے

درندوں کو فنا کردو….ماجد جہانگیر مرزا

یہ لت پت خون میں لاشے جنازے یہ شہیدوں کے
یہ میرے پھول سے بچے حصول علم کی خاطر
گھروں سے اپنے نکلے تھے کہاں معلوم تھا ان کو
کہ اٹھتا ہر قدم ان کا بقا سے دور کر دے گا
کہ بے بس ماں کی آنکھوں سے وہ بچہ دور کر دے
کہا تھا بارہا میں نے ہیں وحشی طالبان لوگو
جو لے کر نام مذہب کا ہمیں بدنام کرتے ہیں
جو کر کے قتل بچوں کو عجب پیغام دیتے ہیں
درندہ شکل بزدل ہیں مسلتے ہیں جو کلیوں کو
شریفو اور زردارو سنوعمران خاں تم بھی
مخاطب ہوں میں تم سب سے
تمہارا وعدہ ہے ہم سے وطن کی پاسبانی کا
ہماری ترجمانی کا سنو ہاں غور سے سن لو
سیاست کی شہیدوں پر لچک بھی تھوڑی سی دکھلائی
اگر بدل موقف کو قسم ہے ربِ کعبہ کی
خدا کے روبرو ہو کر
گواہی ظلم کی محشر میں سب کے سامنے دوں گا
یہی اطفال ہونگے اور گریباں ہو گاتم سب کا
سو اب اس خون کا بدلا ہواہے فرض تم سب پر
لہو ان میرے بچوں کا
ہے بھاری قرض تم سب پر
شجاعت اپنی دکھلاو قیادت اپنی منواو
نظر ہے قوم کی تم پر تمہارا ساتھ ہم دیں گے
جنہوں نے ماں کی گودوں کو اجاڑا ہے بے دردی سے
لگا کر نعرہِ حق کو مٹا دو ان درندوں کو
وطن کا حق ادا کر دو
درندوں کو فنا کردو…. درندوں کو فنا کر دو

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے