عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کے دوران کی گئی ایک تقریر کو جواز بنا کر اے این پی باجوڑ کے ترجمان عبید سالارزئی کے خلاف جعلی مقدمات درج کرنا اور ان کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی اے کینسل کرکے انہیں باجوڑ سے ڈی آئی خان منتقل کرنا کھلی سیاسی انتقام کی کارروائی ہے۔

میاں افتخار حسین کے مطابق امن کے لیے آواز اٹھانا اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر سوال اُٹھانا کوئی جرم نہیں۔ ہر شہری کو آئینِ پاکستان کے تحت آزادیِ اظہارِ رائے کا بنیادی حق حاصل ہے، اور اس حق کو سلب کرنے کی کوششیں آئین دشمن اور جمہوریت شکن اقدامات کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت آئینی و قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی کررہی ہے جسے عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

صوبائی صدر نے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس حالیہ بیان کی بھی نشاندہی کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی بنیادوں پر کسی کارکن کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا یہ مؤقف سچا ہے تو عبید سالارزئی کے خلاف درج جھوٹے مقدمات فوری واپس لیے جائیں کیونکہ سیاسی اختلافِ رائے کو جیل کی سلاخوں یا پولیس تشدد کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ عبید سالارزئی کے ساتھ ہونے والی قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جس تقریر کو جواز بنا کر کارروائی کی گئی، وہ اے این پی کا اجتماعی اور آئینی مؤقف ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے عبید سالارزئی اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سیاسی انتقامی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور کارکنان کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ امن کا قیام اور غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا حق ہے اور اس جدوجہد کو ہر فورم پر جاری رکھا جائے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے