
باڑہ نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی
کپٹن ریٹائرڈ محمد طاہر نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی جانب سے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے ساتھ صوبے کے حقوق کے حوالے سے ملاقات اور گفتگو کو ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم قرار دیا ہے۔ اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے براہِ راست رابطے ہی وہ مؤثر راستہ ہیں جن کے ذریعے صوبوں کے جائز حقوق وفاقی سطح پر منوائے جا سکتے ہیں۔
کپٹن (ر) محمد طاہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی سنجیدہ کوشش تیراہ آپریشن کے آغاز سے قبل کی جاتی تو ممکن تھا کہ نہ صرف آپریشن کو روکا جا سکتا بلکہ متاثرین کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے خاطر خواہ مالی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت سیاسی رابطہ کاری کئی بڑے بحرانوں کے اثرات کو کم کر سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وفاق سے مکمل لاتعلقی کسی بھی صورت صوبے کے مفاد میں نہیں ہوتی۔ صوبائی حقوق کی جدوجہد جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، سیاسی بالغ نظری اور مؤثر رابطوں کے ذریعے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔
کپٹن ریٹائرڈ محمد طاہر نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے اپیل کی کہ وہ مزید ملاقاتوں کے لیے وقت نکالیں اور صوبے کے حقوق کی جدوجہد کو صرف جرگوں اور جلسوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ وزیرِ اعظم کے ایوان میں جا کر بھی خیبر پختونخوا کا مقدمہ مضبوط اور دوٹوک انداز میں پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہی راستہ عملی اور دیرپا نتائج لا سکتا ہے اور متاثرہ علاقوں کے عوام کو حقیقی ریلیف دلایا جا سکتا ہے۔
![]()