
محمد مبین تبلیسی جارجیا
جارجیا میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے، جہاں حکومت نے جمعرات کے روز اپوزیشن کی آٹھ نمایاں شخصیات، بشمول سابق صدر میخائل ساکاشویلی، پر حکومت کا تختہ الٹنے، تخریب کاری اور غیر ملکی طاقتوں کی مدد جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔یہ مقدمات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں گزشتہ سال کے متنازع پارلیمانی انتخابات کے بعد سے سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ انتخابات میں حکمران جماعت ’جارجین ڈریم‘ کے حق میں دھاندلی کی گئی، جب کہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔پراسیکیوٹر جنرل گیورگی گواراکیدزے کے مطابق، زیرِ تفتیش رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے "غیر ملکی ریاستوں کی دشمنانہ سرگرمیوں میں مدد فراہم کی” اور ملکی سلامتی و آئینی نظام کے خلاف اقدامات میں ملوث رہے۔ ان الزامات کی سزا 15 سال تک قید ہے۔پراسیکیوٹر کے مطابق، بعض رہنماؤں نے مبینہ طور پر توانائی اور دفاع سے متعلق حساس معلومات مغربی ممالک تک پہنچائیں، جس کے نتیجے میں جارجین حکام پر پابندیاں عائد کی گئیں۔سابق صدر میخائل ساکاشویلی، جو اس وقت بدعنوانی کے مقدمے میں 12.5 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں کو حکومت کے خلاف احتجاج اور مزاحمت پر اکسایا۔اپوزیشن رہنماؤں نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔نیکا گوارامیا نے اسے "جمہوریت کے خلاف اعلانِ جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ الزامات سیاسی تھیٹر کے سوا کچھ نہیں۔”جبکہ زوراب جاپاریدزے نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے "آمریت کی آخری حد پار کرلی ہے”۔ڈروآ پارٹی کی سربراہ ایلینے خوشٹاریا نے کہا، "ہمیں ڈرانے کی کوئی کوشش ہمیں یورپی مستقبل کے دفاع سے نہیں روک سکتی۔”یورپی یونین نے جارجیا میں جمہوری اداروں کی کمزوری اور اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ ’جارجین ڈریم پارٹی‘ 2012 سے اقتدار میں ہے۔ ابتدا میں اس نے خود کو یورپ نواز اور لبرل جماعت کے طور پر پیش کیا، تاہم حالیہ برسوں میں ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی کا جھکاؤ روس کے قریب ہوتا جا رہا ہے، جس سے جارجیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ملک میں استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی مداخلتوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، خصوصاً روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی خطے کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر۔
![]()