ضلع مہمند کی تحصیل بیزئی کے عمائدین نے پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے نوجوان رہنما سہیل افریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا۔پریس کانفرنس کی قیادت بزرگ قبائلی رہنما حاجی ضابطہ خان نے کی، جن کے ہمراہ حاجی لاہور، حاجی فضل منان، حاجی غنڈے، حاجی ملتان خان، حاجی بارات خان اور حاجی خانزادہ سمیت ڈیڑھ سو سے زائد عمائدین موجود تھے۔حاجی ضابطہ خان نے کہا کہ “سہیل افریدی کا نام سامنے آنے کے بعد قبائلی علاقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ صرف سہیل افریدی نہیں بلکہ ہر قبائلی نوجوان کی نمائندگی ہے۔”انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا آج بھی صحت، تعلیم، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ فیکٹریاں بند ہیں، بے روزگاری عام ہے، جبکہ اہم سڑکیں جیسے کڑپا روڈ پندرہ برس گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکیں۔عمائدین نے تمام سیاسی جماعتوں—پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور دیگر—سے اپیل کی کہ وہ قبائلی علاقوں کی ترقی اور محرومیوں کے ازالے کے لیے سہیل افریدی کی مخالفت نہ کریں اور ان کی حمایت کریں۔حاجی ملتان خان نے کہا کہ “ہم قبائلی سادہ لوگ ہیں، سیاسی جماعتوں سے صرف درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ایک موقع دیں تاکہ ہمارے علاقے میں حقیقی تبدیلی آسکے۔”حاجی مستان نے کہا کہ اگرچہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، مگر یہ فخر کی بات ہے کہ سابق فاٹا سے ایک نوجوان وزیراعلیٰ کے لیے منتخب ہوا ہے۔عمائدین نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی سیاسی بصیرت کو بھی سراہا، جنہوں نے سہیل افریدی کا نام سن کر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا۔آخر میں حاجی ضابطہ خان نے امید ظاہر کی کہ سہیل افریدی بطور وزیراعلیٰ سابق فاٹا کے عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ازالہ کریں گے، ترقیاتی منصوبے شروع کریں گے، ٹیوب ویلز کو سولر نظام پر منتقل کریں گے، اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کریں گے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے