نایاب جانوروں کے تحفظ اور مقامی معیشت کے استحکام میں نمایاں کامیابی

تحریر: محمد طیب، افسر تعلقات عامہ برائے معاون خصوصی جنگلات و جنگلی

جنگلات اور نایاب جنگلی حیات کے لحاظ سے ملک میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ انہی میں سے ایک قومی جانور مارخور ہے، جو نہ صرف پاکستان کی پہچان ہے بلکہ اپنی دلکشی اور نایابی کے باعث دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتا ہے۔مارخور کی بڑھتی ہوئی آبادی — ایک کامیاب ماڈلمحکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے بروقت اقدامات کے نتیجے میں مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 1998-99 میں چترال میں مارخور کی تعداد 618 اور کوہستان میں 343 ریکارڈ کی گئی تھی، جو اب بڑھ کر 6222 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں چترال کے 2669، کوہستان کے 796، چترال گول نیشنل پارک کے 2585 اور سوات کے 172 مارخور شامل ہیں۔ٹرافی ہنٹنگ پروگرام — مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھمارخور کی آبادی میں کمی کے خدشے کے باعث 1998-99 میں محکمہ جنگلی حیات نے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام شروع کیا۔ یہ پروگرام ابتدا میں چترال میں شروع ہوا اور 2003-04 میں کوہستان تک توسیع دی گئی۔اس کے تحت ہر سال ایکسپورٹیبل مارخور کے شکار کے پرمٹس بین الاقوامی کنونشن CITES کی منظوری سے غیر ملکی شکاریوں کو نیلام کیے جاتے ہیں۔ پروگرام سے حاصل آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز جبکہ 20 فیصد صوبائی خزانے میں جمع ہوتا ہے۔قانون اور شفافیتپاکستان میں "وائلڈ لائف ٹریڈ کنٹرول ایکٹ 2012” نافذ ہے، جو عالمی معاہدے CITES کے تحت نایاب جانوروں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے بنایا گیا۔

اسی قانون کے تحت ٹرافی ہنٹنگ ایک سائنسی، محدود اور منظم نظام کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے تاکہ جنگلی حیات کا توازن برقرار رہے۔2025-26 سیزن کی تاریخی نیلامیمحکمہ جنگلی حیات نے 2025-26 کے لیے مارخور، آئی بیکس اور گرے گورل کے پرمٹس کی نیلامی مکمل کرلی ہے، جس سے صوبے کو 542.7 ملین روپے کی ریکارڈ آمدن ہوئی۔ایکسپورٹ ایبل مارخور کے 4 پرمٹس: 946,000 امریکی ڈالرنان ایکسپورٹ ایبل مارخور کے 9 پرمٹس: 553,300 امریکی ڈالرنان ایکسپورٹ ایبل آئی بیکس کے 20 پرمٹس: 16,042 امریکی ڈالرنان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کے 6 پرمٹس: 398,500 امریکی ڈالراس سال پہلی بار نان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کے پرمٹس بھی متعارف کرائے گئے، جن سے آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ترقی اور تحفظ ساتھ ساتھٹرافی ہنٹنگ پروگرام نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیاب مثال ہے بلکہ اس نے مقامی آبادی کو معاشی طور پر مستحکم کیا ہے۔ ویلج کنزرویشن کمیٹیاں حاصل شدہ فنڈز کو تعلیم، صحت اور مقامی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کرتی ہیں۔حکومت کے آئندہ اقداماتوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور معاون خصوصی برائے جنگلی حیات پیر مصور خان کی نگرانی میں محکمہ جنگلی حیات صوبے میں ری وائلڈنگ پروگرام اور گرین ہنٹ ریسرچ پروگرام شروع کر رہا ہے۔حکومت مارخور سمیت تمام جنگلی حیات کے تحفظ، فروغ اور غیر قانونی شکار کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے