
پشاور: ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار فورس اور لیوی فورس کے 138 شہداء کے لواحقین نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور مطالبہ کیا کہ 2018 میں فاٹا کے انضمام سے قبل بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کو تاحال شہداء پیکج فراہم نہیں کیا گیا۔
احتجاج کی قیادت شہداء کمیٹی کے چیئرمین حامد آفریدی اور وائس چیئرمین حیران شاہ آفریدی کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ افریدی قبائل سے تعلق رکھنے والے 138 اہلکار دہشت گردی کے واقعات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، مگر ان کے خاندان آج بھی سرکاری امداد اور مراعات سے محروم ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ کئی برسوں میں مختلف فورمز پر آواز اٹھائی اور تمام ضروری دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے، اس کے باوجود انہیں ان کا حق نہیں دیا گیا۔ مظاہرین نے امید ظاہر کی کہ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ان کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور سابقہ فاٹا کے شہداء کو صوبائی شہداء پیکج میں شامل کر کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں گے۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج پرامن ہے اور وہ صرف اپنے پیاروں کی قربانیوں کا اعتراف اور قانونی حق چاہتے ہیں۔
![]()