امجد ہادی یوسفزئی

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی احتجاجی سیاست اب کسی نظریے، مزاحمت یا اصولی جدوجہد کی علامت نہیں رہی بلکہ یہ عوام کے لیے ایک مستقل اذیت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آئے روز احتجاج، دھرنے، جلسے، جلوس اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں معمول بن چکی ہیں۔ سڑکیں بند، بازار ویران، کاروبار ٹھپ اور عام شہری ذہنی و معاشی دباؤ کی چکی میں پس رہا ہے، مگر حکمران جماعت کو اس اذیت کا کوئی احساس دکھائی نہیں دیتا۔

گزشتہ روز کی شٹر ڈاؤن ہڑتال نے اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب عوامی مفاد نہیں بلکہ عوامی نقصان کا استعارہ بنتی جا رہی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، وہ ایام جب تاجر، مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ کچھ اضافی آمدن کی امید باندھتا ہے، مگر ایسے وقت میں پورے صوبے کو بند کروا دینا سیاسی ناپختگی نہیں بلکہ کھلی عوام دشمنی ہے۔ جن گھروں میں چولہا دیہاڑی سے جلتا ہے، وہاں شٹر ڈاؤن کا مطلب فاقہ ہوتا ہےمگر یہ حقیقت احتجاجی نعروں میں کہیں گم ہو چکی ہے۔

اس نام نہاد عوامی احتجاج کا سب سے شرمناک پہلو وہ مناظر تھے جب ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز بازاروں میں نکل کر دکانداروں کو زبردستی شٹر گرانے کے احکامات دیتے رہے۔ اگر یہ احتجاج واقعی عوام کی آواز تھا تو ریاستی افسران کو پولیسیا انداز میں بازار بند کروانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ احتجاج کم اور سرکاری جبر زیادہ تھا، جسے سیاسی بیانیے کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔

پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست اب عملی طور پر ایک ہی نکتے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے: عمران خان کی رہائی۔ یوں تاثر دیا جا رہا ہے جیسے خیبرپختونخوا کے تمام مسائل حل ہو چکے ہوں اور اب صوبے کے کروڑوں عوام کو صرف اسی ایک معاملے پر سڑکوں پر آنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی ختم ہو گئی؟ کیا بے روزگاری کا خاتمہ ہو گیا؟ کیا اسپتالوں میں دوائیں اور اسکولوں میں اساتذہ پورے ہو گئے؟ اگر نہیں، تو پھر حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل کے بجائے ایک شخصیت کے گرد کیوں گھوم رہا ہے؟

خیبرپختونخوا اس وقت شدید انتظامی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہے۔ صحت کا نظام زبوں حالی کی تصویر بنا ہوا ہے، تعلیم مسلسل زوال پذیر ہے، نوجوان مایوسی اور بے روزگاری کے اندھیروں میں دھکیلے جا چکے ہیں، جبکہ امن و امان ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔ اس سب کے باوجود صوبائی حکومت کی ترجیح احتجاجی سیاست، طاقت کے مظاہرے اور شٹر ڈاؤن کی کالیں ہیں۔ عوام بجا طور پر پوچھ رہے ہیں کہ اگر حکومت خود سڑکوں پر ہے تو دفاتر میں کون بیٹھے گا، اور فیصلے کون کرے گا؟

سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید تضاد یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف گزشتہ 13 برس سے خیبرپختونخوا پر بلا تعطل حکومت کر رہی ہے، مگر آج بھی خود کو اپوزیشن کے روپ میں پیش کرنے پر مصر ہے۔ جو کردار اپوزیشن کا ہوتا ہے، وہ حکومت ادا کر رہی ہے، اور جو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، وہ مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہے۔ اگر صوبے میں بدانتظامی ہے تو اس کا حساب کون دے گا؟ اور اگر عوام پریشان ہیں تو جواب دہی کس کی بنتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اس مسلسل احتجاجی سیاست نے عوام میں شدید غصہ، بیزاری اور بداعتمادی پیدا کر دی ہے۔ لوگ اب نعروں سے نہیں، سکون سے محبت کرتے ہیں۔ وہ احتجاج نہیں، روزگار چاہتے ہیں۔ وہ سیاسی جنگ کا ایندھن بننے کے بجائے معمول کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی یہ حکمتِ عملی عوام کو ساتھ ملانے کے بجائے انہیں مزید دور دھکیل رہی ہے۔

پی ٹی آئی کو اب واضح طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خیبرپختونخوا میں حکومت کرنا چاہتی ہے یا احتجاج۔ عوام کو یرغمال بنا کر، بازار بند کروا کر اور روزگار چھین کر نہ سیاسی ہمدردی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی قیادت کو بچایا جا سکتا ہے۔ سڑکوں پر سیاست کرنے کا وقت کب کا گزر چکا، اب صوبے کو کام، استحکام اور سنجیدہ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر 13 برس اقتدار میں رہنے کے بعد بھی ہر مسئلے کا واحد جواب احتجاج ہے تو پھر یہ سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ کھلا اعترافِ ناکامی ہےاور تاریخ ایسی حکمرانی کو عوامی خدمت نہیں بلکہ عوامی بربادی کے نام سے یاد رکھے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے