پشاور: شہر میں قائم غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف ٹرانسپورٹ برادری نے 12 فروری بروز جمعرات مکمل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کمشنر پشاور ڈویژن کی جانب سے غیر قانونی اڈوں کے خاتمے کی یقین دہانی کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
ٹرانسپورٹ رہنما اصف خان نے کہا کہ پشاور بھر کی تمام پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں خیبر پختونخوا اسمبلی چوک کے سامنے جمع کی جائیں گی اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں کسی قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی اور غیر قانونی اڈوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں خان آصف شاہ، خان زمان آفریدی، نور محمد، محمد عالم، حاجی شاکر آفریدی، مراد حاجی، حیدر اور فاروق احمد نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈی کلاس کے غیر قانونی نجی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف کمشنر پشاور کو باقاعدہ درخواست دی تھی، جس پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم تاحال تسلی بخش پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
بیان میں کہا گیا کہ سی کلاس جنرل بس اسٹینڈ پشاور سے قانونی اجازت نامے کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ سروس چلائی جا رہی ہے اور تمام مقررہ ٹیکسز اور فیسیں باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس سی کلاس جنرل بس اسٹینڈ کے قریب ایک ڈی کلاس نجی بس اڈا مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر علیحدہ بس سروس چلا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بس سروس کی گاڑیاں نہ تو متعلقہ کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ڈی کلاس لائسنس کے تحت قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹ برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی اڈوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو اسمبلی چوک میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں کھڑی کر کے ہر قسم کی ٹریفک بلاک کی جائے گی، جس سے شہر میں ٹریفک نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے